اسلام آباد میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر حمزہ علی کی زندگی حوصلے، جدوجہد اور امید کی ایک ایسی کہانی ہے جو دکھ کے اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے۔ دونوں ٹانگوں سے محروم ہونے کے باوجود وہ آج بھی موڈیفائیڈ موٹر سائیکل پر شہر کی سڑکوں پر آرڈر ڈیلیور کر کے اپنا روزگار خود کماتے ہیں، مگر اس سال ان کی عید ایک مختلف خوشی لے کر آئی ہے—ماں سے ملاقات کی امید۔
یہ بھی پڑھیں:معذوری کمزوری نہیں، فوڈ پانڈا رائیڈر کی حوصلہ افزا داستان
عرب نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق 28 سالہ حمزہ علی نے بتایا کہ پانچ سال قبل ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں ان کی دونوں ٹانگیں ضائع ہو گئیں، جب لاہور سے ملتان جاتے ہوئے بس اور ٹرک کے تصادم نے ان کی زندگی بدل دی۔ ابتدائی مہینے ان کے لیے شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کے تھے، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے خود کو سنبھالا اور زندگی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
حمزہ علی کے مطابق انہوں نے کئی سال ملتان میں نوکری تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن معذوری کی وجہ سے ہر جگہ سے مایوسی ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ انہیں یہ کہہ کر انکار کر دیتے کہ ’آپ معذور ہیں، آپ کیا کر سکتے ہیں؟‘ جس سے ان کے حوصلے مزید آزمائش میں پڑ جاتے۔

بعد ازاں 2023 میں وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے، جہاں ایک دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ شہر کی بہتر سڑکیں اور انفراسٹرکچر شاید ان کے لیے کام کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی موٹر سائیکل کو ہاتھ سے چلنے والے کنٹرولز کے ساتھ موڈیفائی کیا اور اسلام آباد میں فوڈ ڈیلیوری کا کام شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:گھٹنوں کے بل چل کر فوڈ ڈیلیور کرنے والے محمد عمران جو ماسٹرز ڈگری رکھتے ہیں
حمزہ علی نے بتایا کہ شروع کے دن انتہائی مشکل تھے، جب نہ رہائش تھی اور نہ ہی شہر میں کوئی جاننے والا۔ وہ رات گئے تک سڑکوں پر گھومتے رہتے تھے کیونکہ سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ بعد ازاں انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے قریب معمولی کرائے پر رہائش اختیار کی اور پھر ایک ہاسٹل میں منتقل ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی راتیں ایسی بھی گزریں جب وہ کام کے بعد روتے ہوئے اللہ سے سوال کرتے کہ آخر انہیں اکیلا کیوں چھوڑ دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ان کی ماں ہمیشہ ان کے لیے سب سے بڑی طاقت رہی، جو انہیں حوصلہ دیتی رہیں کہ انسانوں سے نہیں بلکہ اللہ سے امید رکھنی چاہیے۔
وقت کے ساتھ ساتھ حمزہ نے نہ صرف خود کو منوایا بلکہ فوڈ ڈیلیوری کمپنی کے ٹاپ رائیڈرز میں بھی جگہ بنائی۔ حال ہی میں انہیں کارکردگی کی بنیاد پر ایک موبائل فون بھی دیا گیا، جسے وہ اپنی ماں کو عید پر تحفے کے طور پر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز جو بھوکے رہ کر دوسروں کو کھانا پہنچاتے ہیں
حمزہ علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ عید اسلام آباد میں اکیلے گزاری تھی کیونکہ گھر جانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، لیکن اس بار ان کی سب سے بڑی خواہش ملتان جا کر اپنی والدہ کے ساتھ عید منانا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ معذور افراد کو معاشرے میں ہمدردی نہیں بلکہ مواقع اور عزت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ معذوری نہیں بلکہ مواقع کی کمی اور سماجی رویے ہیں جو انہیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔
حمزہ علی آج بھی اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن ان کی کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ مضبوط ارادے اور حوصلے کے ساتھ معذوری بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔













