امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایشیا میں چین کے ساتھ مستحکم توازن کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اچھا موقع ہے امریکا سے ایک بہتر ڈیل کرلیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا ایران کو مشورہ
انہوں نے شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بیجنگ کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم اس کے باوجود نسبتاً محتاط اور متوازن مؤقف اختیار کیا۔
سنگاپور میں منعقدہ اس اہم سیکیورٹی فورم میں تقریباً 45 ممالک کے دفاعی حکام اور سیکیورٹی ماہرین شریک تھے۔
خطاب کے دوران ہیگستھ نے کہا کہ چین کی عسکری توسیع اور خطے سمیت دنیا بھر میں اس کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ باعثِ تشویش ہے لیکن امریکا خطے میں غیر ضروری محاذ آرائی نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم آج اس خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو چین کی تاریخی عسکری تعمیر اور اس کی فوجی سرگرمیوں کے پھیلاؤ پر بجا تشویش پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: فلمی ڈائیلاگ کو مقدس آیت بنانے پر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ تنقید کی لپیٹ میں
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کا مقصد ایک حقیقی اور مستحکم توازن برقرار رکھنا ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں دونوں کے مفاد میں ہو۔
مبصرین کے مطابق پیٹ ہیگستھ کے حالیہ ریمارکس گزشتہ برس کے شنگریلا ڈائیلاگ میں ان کے سخت مؤقف سے مختلف ہیں جب انہوں نے چین کو ایک فوری سیکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہوئے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا تھا۔
ہیگستھ نے واشنگٹن کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا بیجنگ کے ساتھ احترام اور نیک نیتی کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون مسلسل دوسرے سال بھی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے تاہم امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ان سے ملاقات ہوگی۔
امریکی وزیر دفاع نے انڈو پیسیفک خطے میں امریکا کے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔
انہوں نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور فلپائن کی دفاعی کوششوں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ضرورت سے زیادہ امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتے ہیں انہیں امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔













