وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی کی سبسڈئی ختم کرنے کی تمام افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستحق صارفین کو نئے کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے مالی ریلیف کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اویس لغاری نے میڈیا پر چلنے والی ایسی خبروں کو حقائق کے برعکس قرار دیا اور کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد اب 2 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جنہیں حکومت مسلسل سبسڈی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پروٹیکٹڈ صارفین کو اوور بلنگ، ایف آئی اے نے سابق ایم ڈی پی پی ایم سی کو طلب کرلیا
بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں میں اضافے کے امکان کو یکسر رد کرتے ہوئے انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ اس وقت حکومت کے پاس ایسی کوئی بھی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے صارفین کا درست ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے تاکہ یہ سبسڈی صرف اور صرف حقیقی حقداروں تک ہی پہنچائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران بجلی پر سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی ہے، جس کے باعث اس وقت ملک کے تقریباً 86 فیصد یعنی 2 کروڑ 95 لاکھ سے زائد گھریلو صارفین کو سبسڈی مل رہی ہے۔
شعبہ توانائی میں ہونے والی دیگر اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی سے ساڑھے 3 ہزار ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کی تعداد دگنی ہونے سے پاور سیکٹر پر بوجھ بڑھ گیا
اویس لغاری کے مطابق ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے بچائے گئے ہیں اور مالی سال 25-2024 کے دوران گردشی قرضوں میں بھی 780 ارب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سولر انرجی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے واضح کیا کہ حکومت شمسی توانائی کے استعمال کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ وہ اس پورے نظام کو مزید شفاف اور کارآمد بنا رہی ہے۔
انہوں نے صراحت کی کہ نیٹ میٹرنگ کو ہرگز ختم نہیں کیا گیا بلکہ صرف اس کے بلنگ کے طریقہ کار میں اصلاحات کی گئی ہیں جس سے 90 فیصد گھریلو صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین اپنی رجسٹریشن مکمل کر چکے ہیں، جبکہ چھوٹے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے 25 کلوواٹ یا اس سے کم کے سولر پراجیکٹس کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر کے ریگولیٹری منظوریوں کو انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے۔














