مصنوعی ذہانت یا اے آئی دنیا بھر میں مختلف صنعتوں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے اور ماہرین کے مطابق پاکستان بھی اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی، تیزی سے بڑھتا ٹیکنالوجی سیکٹر اور مضبوط فری لانسنگ کمیونٹی ملک کو اس شعبے میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں نوجوان کاروباری افراد اے آئی ٹولز کی مدد سے ڈیجیٹل کاروبار، خودکار سروسز اور عالمی کلائنٹس کے لیے مواد تیار کر رہے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی دنیا کے نمایاں فری لانسنگ ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہزاروں سافٹ ویئر ڈویلپرز، گرافک ڈیزائنرز، ڈیجیٹل مارکیٹرز اور ٹیکنالوجی ماہرین شمالی امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے کلائنٹس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان ’اے آئی‘ کے میدان میں آگے بڑھنے لگا، نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع
صنعتی ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی نے مقامی فری لانسرز اور کاروباری افراد کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے، اخراجات کم کرنے اور خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی سے چلنے والی سروسز پاکستان کو روایتی آؤٹ سورسنگ سے آگے بڑھا کر زیادہ قدر رکھنے والی ڈیجیٹل برآمدات کی طرف لے جا سکتی ہیں جن میں اے آئی معاونت یافتہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، آٹومیشن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ورچوئل کسٹمر سپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی حل شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: لیڈرشپ ایوی ایشن مینجمنٹ ڈپلومہ کے لیے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور آئی بی اے میں معاہدہ
ماہرین کے مطابق اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنائیں تو پاکستان عالمی اے آئی مارکیٹ میں ایک نمایاں برآمدی قوت بن سکتا ہے۔














