اوور اسٹے پر ڈی پورٹ شہری کا نام ’پی سی ایل‘ میں ڈالنا غیر قانونی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض ویزا اوور اسٹے کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا شہری پر سفری پابندی عائد کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں شامل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کا نام فوری طور پر فہرست سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس محمد آصف نے کیس کا 4 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صرف ویزا اوور اسٹے کے باعث بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی شہری کے بنیادی حقوق محدود کرنے یا اس پر سفری پابندی عائد کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیاکہ کسی شخص کو سفری پابندی کا سامنا کرانے کے لیے کسی جرم میں ملوث ہونے، قومی سلامتی کے خدشات یا ناقابل تردید شواہد کا موجود ہونا ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بغیر کسی جرم کے کسی شہری کے بیرون ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اس نوعیت کی سفری پابندی آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت کے مطابق کسی شہری کا نام محض اس بنیاد پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں برقرار رکھنا نہ صرف آئینی ضمانتوں بلکہ قانونی تقاضوں کے بھی منافی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ متعلقہ شہری ایک خلیجی ملک میں ویزا اوور اسٹے کے باعث ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔

حکومت کے مطابق موجودہ پالیسی کے تحت ایسے افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے یہ مؤقف بھی اختیار کیاکہ دوسرے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے مذکورہ اقدام اٹھایا گیا۔

تاہم عدالت نے قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے کی بنیاد پر کسی شہری کو سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا قانونی تقاضوں اور بنیادی حقوق کے منافی ہے، لہٰذا شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp