پنجاب زرعی میکانائزیشن کے نئے دور میں داخل، کاشتکاروں کے لیے گرین ٹریکٹرز اور جدید مشینری کی فراہمی کا دائرہ وسیع

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زرعی شعبے میں اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جس کے تحت پنجاب جدید زرعی میکانائزیشن کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ گرین ٹریکٹرز، ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز اور سپر سیڈرز کی فراہمی سے صوبے میں جدید کاشتکاری کو فروغ مل رہا ہے جبکہ کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت نے اب تک کتنے لاکھ زمینداروں میں ’کسان کارڈ‘ تقسیم کیے؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت 9500 ہائی پاور ٹریکٹرز پر 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں کو 5 لاکھ روپے سبسڈی کے ساتھ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعلیٰ نے 20 ہزار مزید گرین ٹریکٹرز فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

نئے مالی سال میں ہائی ہارس پاور ٹریکٹرز پر 15 لاکھ روپے جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے ٹریکٹرز پر ساڑھے 7 لاکھ روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو نمایاں مالی سہولت حاصل ہوگی۔

پنجاب میں پہلی مرتبہ 12 اقسام کی جدید زرعی مشینری کی خریداری کے لیے تین کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ زرعی آلات خریدنے کے لیے آسان شرائط پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کاشتکاروں کو بلاسود قرضوں کے ذریعے تقریباً 200 ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز فراہم کیے جا چکے ہیں۔ گندم کی فصل کی کٹائی کے لیے بھی پہلی مرتبہ 50 جدید کمبائنڈ ہارویسٹرز استعمال کیے گئے، جس سے فصل کی بروقت اور مؤثر کٹائی ممکن ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ پنجاب کسان کارڈ اسکیم: لکی ڈرا کے فاتحین کا اعلان، کسانوں میں موبائل فونز تقسیم

ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور فصلوں کی باقیات کو جلانے کے رجحان میں کمی لانے کے لیے پنجاب حکومت نے چاول کے کاشتکاروں میں 5 ہزار سپر سیڈرز تقسیم کیے۔ پہلی مرتبہ سپر سیڈر ٹیکنالوجی کے ذریعے 14 لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کی کاشت مکمل کی گئی، جس کے مثبت ماحولیاتی اور زرعی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سپر سیڈر اسکیم کے دوسرے مرحلے میں مزید 5 ہزار سپر سیڈرز فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کاشتکاروں کو جدت کی راہ پر گامزن کرنا ان کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی میکانائزیشن سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپر سیڈر کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے اور جدید ترین زرعی مشینری کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت پنجاب چھوٹے کاشتکاروں کے لیے جدید زرعی مشینری کرائے پر حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ محدود وسائل رکھنے والے کسان بھی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

زرعی ماہرین کے مطابق حکومت پنجاب کے یہ اقدامات نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافے کا سبب بنیں گے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، ماحول دوست کاشتکاری اور کسانوں کی معاشی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی پیش کردہ اسلحہ کنٹرول کی 3 قراردادیں اقوام متحدہ میں منظور، بھارت اور اسرائیل کی مخالفت

کانگریس میں نیو جرسی سے پہلے مسلمان رکن منتخب، ڈاکٹر آدم حموی نے تاریخ رقم کر دی

امیگریشن فراڈ تحقیقات کے باوجود الہان عمر پانچویں بار امریکی کانگریس کی رکن منتخب

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا