بھارت میں سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا سے نئی دہلی واپس پہنچ کر ہفتے کے روز پرامن احتجاج کریں گے اور اس سلسلے میں پولیس سے اجازت طلب کریں گے۔
مزید پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
30 سالہ ابھجیت دیپکے، جو ماضی میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں، نے 16 مئی کو سوشل میڈیا پر سیاسی مہم کا آغاز کیا تھا۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا نام حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ نوجوانوں کے مسائل اجاگر کرنے کے نعرے کے ساتھ مقبول ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت سے منسوب ایک بیان سامنے آیا، جس میں حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ اور ’طفیلیے‘ قرار دیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
Important Update:
The overwhelming response from those who want the resignation of Dharmendra Pradhan to our call to join us at Delhi Airport was beyond our imagination.
It is not feasible for so many people to assemble at the airport as it would cause inconvenience to the… pic.twitter.com/VOkd0Fbjmv
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) June 4, 2026
ابھجیت دیپکے نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جنہیں مختلف امتحانات میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر تنقید کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس مہم کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ اس کا انسٹاگرام صفحہ 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد پیروکار حاصل کر چکا ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس جماعت کے انسٹاگرام پیروکاروں سے بھی زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تنازع شدت اختیار کر گیا، بی جے پی اور اپوزیشن آمنے سامنے
ابھجیت دیپکے نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے پر جمع نہ ہوں اور احتجاج مکمل طور پر پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ براہِ راست پولیس سے ملاقات کرکے احتجاج کی اجازت طلب کریں گے کیونکہ وہ ایک ذمہ دار اور قانون کی پاسداری کرنے والی تحریک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔














