ٹریبیکا فلم فیسٹیول 2026 میں پاکستانی سینما نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جہاں روایتی کمرشل فلموں کے بجائے دو منفرد دستاویزی فلموں کو نمائش کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
یہ دونوں فلمیں اپنے منفرد انداز اور کہانیوں کی بدولت عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کررہی ہیں۔ ان فلموں کی شمولیت نے پاکستان کی آزاد فلم سازی اور دستاویزی کانٹینٹ کی طاقت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلم ’موکلانی‘ نے جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ جیت لیا
پہلی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ ہے جس کی ہدایت کاری محمد علی نقوی نے کی ہے۔ یہ فلم 2023 میں بٹگرام میں پیش آنے والے چیئر لفٹ کے اس سنسنی خیز حادثے پر مبنی ہے جہاں کئی گھنٹوں تک اسکولی بچوں سمیت آٹھ افراد فضا میں معلق رہے۔
View this post on Instagram
فلم میں کسی افسانوی کہانی کے بجائے حقیقی دستاویزی انداز اپنایا گیا ہے جو ریسکیو آپریشن کی مشکلات اور دور افتادہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ فلم رواں سال سن ڈانس فلم فیسٹیول میں کامیابی کے بعد اب ٹریبیکا کا حصہ بنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلمیں ’دیمک‘ اور ’نایاب‘ ایس سی او فلم فیسٹیول 2025 میں نمایاں
دوسری دستاویزی فلم ’دی جمناسٹس آف فشر مین کالونی‘ ہے جس کی ڈائریکٹر ایمی ایوارڈ یافتہ حبیبہ نوشین ہیں۔ یہ 92 منٹ طویل فلم کراچی کی مچھر کالونی کی ان نوجوان لڑکیوں کی جدوجہد پر مبنی ہے جو تمام تر سماجی اور معاشی رکاوٹوں کے باوجود جمنسٹک سیکھتی ہیں۔
View this post on Instagram
اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اس پروجیکٹ میں بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شامل ہیں جس سے اس کہانی کی عالمی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ دونوں فلمیں پاکستان کے ایک نئے اور مثبت رخ کو دنیا کے سامنے پیش کررہی ہیں۔













