بنگلہ دیش کے سرحدی حکام نے شمال مغربی ضلع نوگاؤں میں ایک سرحدی پوائنٹ کے ذریعے خواتین اور بچوں سمیت 17 افراد کو زبردستی بنگلہ دیشی علاقے میں دھکیلنے (پش ان) کی بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی مبینہ کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
مقامی ذرائع اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے مطابق یہ واقعہ ساپہار اپازیلا میں کلمودانگا سرحد کے پاس پیش آیا، جہاں ان افراد کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لا کر جمعرات کی رات گئے بنگلہ دیش کی طرف دھکیلا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی 11 مقامات پر لوگوں کو بنگلہ دیش دھکیلنے کی مبینہ کوششیں ناکام، 28 افراد محصور
یہ گروپ زرعی زمینوں سے ہوتا ہوا جمعے کی صبح سویرے کلمودانگا کے علاقے میں پہنچا، جہاں مقامی لوگوں نے انہیں دیکھ کر قریبی بی جی بی اہلکاروں کو مطلع کیا جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
بی جی بی حکام کے مطابق بعد ازاں ان افراد کو سرحد کی زیرو لائن کے ذریعے واپس بھارتی علاقے میں بھیجنے کی کوشش کی گئی، تاہم بی ایس ایف کے اہلکاروں نے اس پر شدید اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو گیا۔
بی جی بی کے مطابق جمعے کی صبح تقریباً 8 بجے ہاپانیا سیکٹر میں مین پلر 238 کے قریب ایک اور بارڈر پوائنٹ سے بھی ایسی ہی دوسری کوشش کی گئی، جسے بی جی بی کی پٹرولنگ ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلہٹ سرحد پر بھارتی فائرنگ پر بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی جوابی کارروائی
اس وقت خواتین، مردوں اور بچوں سمیت یہ 17 افراد دونوں ممالک کے درمیان نو مینز لینڈ کے علاقے میں موجود ہیں جبکہ بنگلہ دیشی حکام صورتحال کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
نوگاؤں میں قائم 16 بی جی بی بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف الاسلام معصوم نے بتایا کہ واقعے کے بعد سرحدی گشت انتہائی سخت کردی گئی ہے اور بنگلہ دیش کسی کو بھی ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا، اس لیے ان تمام افراد کو واپس بھارتی علاقے میں بھیجنے کی کوششیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پاک بھارت سرحد کی طرح بنگلہ دیش اور بھارت کی سرحد پر بھی ماضی میں ایسے پش بیک اور پش ان کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین وقتاً فوقتاً سرحدی کشیدگی جنم لیتی رہتی ہے۔














