مشرقی ایشیا میں سمندری خودمختاری کا تنازع ایک بار پھر انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے جہاں تائیوان کے کوسٹ گارڈ نے چین کی جانب سے اپنے مشرقی پانیوں میں شروع کیے جانے والے ایک بڑے بحری آپریشن کے جواب میں اپنے جنگی جہازوں کو ہائی الرٹ پر روانہ کر دیا ہے، تائیوان کے حکام کے مطابق چینی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا تائیوان سے متعلق چین کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ
تائیوان کے کوسٹ گارڈ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ چینی جہازوں کی نقل و حرکت پر مسلسل اور گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس صورتحال سے مناسب طریقے سے نمٹنے کے لیے سمندر میں ضروری بحری جہاز تعینات کردیے گئے ہیں۔ تائیوان نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ جزیرے کے مشرقی پانیوں میں چین کو کسی قسم کے خودمختارانہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب چینی سرکاری میڈیا نے گزشتہ روز یہ رپورٹ جاری کی کہ چین نے تائیوان کے مشرقی پانیوں میں ایک خصوصی ‘بحری ٹریفک قانون نافذ کرنے والا آپریشن’ شروع کیا ہے۔ بیجنگ کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اس خصوصی کارروائی کے لیے ساحلی صوبوں فوجیان اور گوانگ ڈونگ سے میری ٹائم پولیس کو متحرک کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان کے لیے امریکا اپنے فوجی قربان نہیں کرے گا، چینی ماہر
چینی میڈیا کے مطابق، بیجنگ کا یہ سخت ترین ردعمل بنیادی طور پر جاپان اور فلپائن کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے خلاف ہے جس میں دونوں ممالک اس متنازعہ خطے میں اپنی سمندری حدود کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین، جو تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، نے جاپان اور فلپائن کے ان یکطرفہ مذاکرات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے اور ان سمندری حدود پر اپنے خصوصی کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔
تائیوان کے دفاعی حکام نے بتایا کہ انہوں نے شیامین بندرگاہ سے چین کے چار سرکاری بحری جہازوں کو روانہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا جو جزیرے کے جنوب مغربی پانیوں سے گزرتے ہوئے تائیوان کے مشرق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مشکوک پیشقدمی کی نگرانی اور جاسوسی کے لیے تائیوان نے اپنے پانچ سے زائد جدید بحری جہاز روانہ کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے پر چین کی جانب سے امریکی دفاعی کمپنیوں، عہدیداروں پر پابندی
تائیوان اور چین کے درمیان یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جب تائیوان نے بدھ کے روز یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ جاپان اور فلپائن کے سرحدی مذاکرات میں تائیوان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
تائیوان کے کوسٹ گارڈ نے یہ تشویشناک انکشاف بھی کیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے شمالی حصے میں واقع پراٹاس جزیرے کے گرد ایک چینی سروے جہاز اور کوسٹ گارڈ کا جہاز ایک ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں، جو تائیوان کو اشتعال دلانے کے لیے چینی اداروں کے باہمی اشتراک کی پہلی واضح مثال ہے۔













