عالمی فضائی صنعت کی نمائندہ تنظیم انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز 2026 میں مجموعی طور پر 4.3 ارب ڈالر خسارے کا سامنا کریں گی، جبکہ فی مسافر منافع 31.5 ڈالر سے گر کر 21.4 ڈالر خسارے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
آئی اے ٹی اے کی سالانہ جنرل اسمبلی کے موقع پر جاری مالیاتی جائزے کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے باعث مشرقِ وسطیٰ دنیا کا واحد خطہ ہوگا جہاں فضائی کمپنیاں مجموعی طور پر خسارے میں جائیں گی۔
مزید پڑھیں: دبئی کی غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں، بھارتی کمپنیوں کو مالی نقصان کا خدشہ
رپورٹ کے مطابق خطے میں فضائی سفر کی طلب میں 11.4 فیصد کمی جبکہ ایئرلائنز کی گنجائش میں 4.4 فیصد کمی متوقع ہے۔ اسی طرح خالص منافع کی شرح 2025 کے 9.4 فیصد سے گر کر منفی 6.1 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر فضائی حدود قریباً مکمل طور پر بند ہو گئیں، جس کے باعث خلیجی ایئرلائنز شدید آپریشنل مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے بقول فضائی رابطے برقرار رکھنے کی کوششوں کے باوجود مالی نقصانات ناگزیر ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی، متبادل راستوں کا استعمال، ٹرانزٹ مسافروں میں کمی اور آپریٹنگ اخراجات میں اضافے نے خلیجی فضائی کمپنیوں کی آمدن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خلیجی ایئرلائنز کا بڑا انحصار ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان سفر کرنے والے ٹرانزٹ مسافروں پر ہوتا ہے، جن کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
عالمی سطح پر بھی فضائی صنعت کے منافع میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ آئی اے ٹی اے کے مطابق 2026 میں عالمی ایئرلائنز کا مجموعی خالص منافع 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر 23 ارب ڈالر رہ جائے گا، جبکہ منافع کی شرح 4.2 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد تک آ جائے گی۔
دوسری جانب جیٹ فیول کی قیمتیں فضائی صنعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔ 2026 میں جیٹ فیول کی اوسط قیمت 152 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کے 90 ڈالر فی بیرل کے مقابلے میں قریباً 70 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے سے عالمی ایئرلائنز کے ایندھن کے اخراجات 252 ارب ڈالر سے بڑھ کر 350 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
آئی اے ٹی اے کے مطابق طیاروں اور انجنوں کی فراہمی میں جاری تاخیر بھی صنعت پر بھاری پڑ رہی ہے۔ دنیا بھر میں طیاروں کے آرڈرز کا بیک لاگ 18 ہزار سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ عالمی فضائی بیڑے کی اوسط عمر 15.2 سال کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ایندھن بحران کا خدشہ، پاکستان نے غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں عائد کردیں
رپورٹ کے مطابق سپلائی چین کے مسائل کے باعث ایئرلائنز کو گزشتہ سال کم از کم 11 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ نئی اور ایندھن بچانے والی ٹیکنالوجی سے لیس طیاروں کی قلت کے باعث ایئرلائنز پرانے طیارے استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے مرمت، لیز اور ایندھن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
تاہم ان چیلنجز کے باوجود عالمی سطح پر فضائی سفر کی طلب برقرار ہے۔ 2026 میں ایئرلائنز کی مجموعی آمدنی 9.4 فیصد اضافے کے ساتھ 1.165 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مسافروں سے حاصل ہونے والی آمدنی 839 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی سطح پر طیاروں کی نشستوں کے استعمال کی شرح بھی 84 فیصد کی نئی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔














