ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی ہدایات پر نافذ کردہ جامع کفایت شعاری پروگرام کے تحت نمایاں مالی بچت کرتے ہوئے 1 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ روپے قومی خزانے میں واپس جمع کرا دیے۔
یہ بچت وزارتِ خزانہ کے مقرر کردہ ہدف سے 500 فیصد زیادہ ہے، جبکہ مالی سال 26-2025 میں یہ رقم سینیٹ کے مجموعی بجٹ کا 15.9 فیصد بنتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام مالی نظم و ضبط، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کی ایک اہم مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کفایت شعاری اقدامات: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 47 کروڑ 21 لاکھ روپے قومی خزانے میں واپس کیے
چیئرمین سینیٹ نے کفایت شعاری پالیسی کا آغاز اپنے دفتر سے کیا اور اسے بعد ازاں پورے سینیٹ سیکریٹریٹ تک وسعت دی، تاکہ اخراجات میں کمی کو مستقل ادارہ جاتی روایت بنایا جا سکے۔
پالیسی کے تحت سینیٹ فنانس کمیٹی سے منظور شدہ 18 میں سے 17 ترقیاتی اور خریداری منصوبوں کو مؤخر یا معطل کر دیا گیا، جس سے فوری طور پر نمایاں مالی بچت ممکن ہوئی۔
اسی طرح بھرتیوں پر پابندی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور انتظامی اخراجات کی سخت نگرانی بھی کی گئی۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری مہم، پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو ملنے والا اعزازیہ بھی بند
سرکاری ٹرانسپورٹ کے استعمال کو محدود کیا گیا، ایندھن کے کوٹے مقرر کیے گئے اور ان کی مؤثر نگرانی کا نظام نافذ کیا گیا۔
سرکاری تقریبات میں ضیافت اور ریفریشمنٹ کے اخراجات ختم کر دیے گئے جبکہ کمیٹی اجلاسوں کو بتدریج ڈیجیٹل اور ورچوئل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا گیا۔
اسی طرح غیر ضروری غیر ملکی دوروں کو بھی معطل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری مہم کی نگرانی، وزیراعظم نے آئی بی کو اہم ذمہ داری سونپ دی
مزید برآں، موجودہ مالی سال میں سرکاری گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص 6 کروڑ روپے کے باوجود ایک بھی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی۔
اسی تسلسل میں آئندہ مالی سال کے لیے ناکارہ گاڑیوں کی تبدیلی کے فنڈز بھی ختم کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے، جس سے مزید 14 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔
حکام کے مطابق یہ بچت محض تخمینہ نہیں بلکہ حقیقی اور قابلِ تصدیق مالی رقوم ہیں جو براہِ راست قومی خزانے میں جمع کرائی گئی ہیں۔














