خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو مشکلات، کیا ناراض اراکین بجٹ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ سے قبل صوبائی اسمبلی کا اجلاس مسلسل تیسری مرتبہ ملتوی کردیا ہے، جو پارٹی میں اندرونی اختلافات اور بجٹ میں ناراض اراکین کی عدم شرکت کے خدشات کے بعد کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 25 مئی کو طلب کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں یکم جون تک مؤخر کیا گیا، پھر یکم جون سے 8 جون اور اب 8 جون سے 15 جون تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نئے مالی سال 27-2026 کا آغاز یکم جولائی سے ہونا ہے اور جون میں بجٹ منظور کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے سہیل آفریدی کو جو پیغام دیا اس پر عملدرآمد کی طرف جا رہے ہیں، پی ٹی آئی کا اعلان

حکومتی مشکلات اور ناراض اراکین

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنی ہی جماعت کے اندر مزاحمت کا سامنا ہے۔ پارٹی معاملات سے باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پارٹی میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، اور عید کے بعد ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 35 اراکین نے شرکت نہیں کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین الگ گروپ بنا چکے ہیں اور باقاعدہ میٹنگز بھی کرتے ہیں۔

ان ناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ صوبائی بجٹ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بغیر اسمبلی میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی منظوری یا مشاورت کے بغیر بجٹ منظور کرانے کی کوشش کی گئی تو وہ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔

ناراض اراکین کے مطالبات کے بعد سہیل آفریدی کی پریشانی بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ جون میں بجٹ منظور نہ ہوا تو قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہی نہیں، عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ سے قبل عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ہونی چاہیے۔

انہوں نے سہیل آفریدی کو بتا دیا ہے کہ صوبائی بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا جائے۔

سہیل آفریدی حکومت کب بجٹ پیش کررہی ہے؟

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت بجٹ پر کام کررہی ہے اور اسے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی بجٹ کے بعد ہی صوبائی حکومت اپنا بجٹ پیش کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہو، اور وہ بجٹ کو جواز بنا کر ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ پر حکومتی ہوم ورک مکمل ہے اور اگلے اجلاس میں اسے پیش کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

ناراض اراکین کا مؤقف کیا ہے؟

پی ٹی آئی کے باخبر ذرائع کے مطابق ہزارہ، جنوبی، مالاکنڈ اور پشاور کے اراکین نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ہے اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سہیل آفریدی سے سوالات کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین پارٹی اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کر رہے، جبکہ اپنی الگ میٹنگز کرکے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہیل آفریدی عمران خان کے نام پر فیصلے کررہے ہیں اور عمران خان کے نام پر اپنے ساتھیوں کو نواز رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے کابینہ کو چھوٹا رکھنے کی ہدایت کی تھی، لیکن ان سے ملاقات کے بغیر کابینہ میں توسیع کردی گئی اور اپنے پسندیدہ اراکین کو شامل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک اس حوالے سے خاموشی ہے۔

’سہیل آفریدی اقتدار کے مزے لے رہے ہیں، پارٹی اور عمران خان کے لیے کچھ نہیں کررہے۔‘

پی ٹی آئی کے رکن مشتاق غنی بھی ناراض ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ میڈیا ٹاک میں کہاکہ پی ٹی آئی کے اراکین عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہ ناراض نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی انہیں منانے آیا ہے، بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے۔

’ہم عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کررہے ہیں‘

ناراض رکن نے بتایا کہ ان کا سہیل آفریدی سے کوئی مسئلہ نہیں، ان کا صرف مطالبہ عمران خان کی رہائی اور ملاقات ہے۔

انہوں نے بتایا کہ علی امین کے دور میں باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں، لیکن سہیل آفریدی کے آنے کے بعد یہ ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔

’یہ سب سہیل آفریدی کی کمزوری ہے۔ وہ کچھ نہیں کر پا رہے۔‘

ناراض رکن نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا سے باہر ایک جلسہ تک نہیں کر سکے، حالانکہ وہ بڑے بڑے دعوے کرتے تھے۔

انہوں نے واضح کیاکہ سہیل آفریدی کو بتا دیا گیا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر بجٹ میں تعاون کی امید نہ رکھیں۔

’بجٹ پاس ہو جائےگا، نہ ملاقات ہوگی نہ بجٹ میں رکاوٹ ہوگی‘

کامران علی پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کابینہ میں حالیہ توسیع ہے۔

’وہ اراکین ناراض ہیں جنہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا، جو اس اختلاف کی بڑی وجہ ہے۔‘

ان کے مطابق علیمہ خان بھی سہیل آفریدی پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کے لیے علیمہ خان ایک مسئلہ بن گئی ہیں، تاہم ناراض اراکین کو فنڈز دے کر منایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جون کے تیسرے ہفتے میں بجٹ پر بحث ہوگی اور اسے جلدی میں منظور بھی کر لیا جائے گا۔ ’بجٹ پاس ہو جائے گا، نہ عمران خان سے ملاقات ہوگی اور نہ بجٹ میں کوئی رکاوٹ آئےگی۔‘

’علی امین کے دور میں بھی بجٹ عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا گیا تھا‘

صحافی عارف حیات کا ماننا ہے کہ علی امین کے دور میں بھی بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا گیا تھا، لیکن اس وقت بھی پی ٹی آئی کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے جھنڈے کی جگہ پی ٹی آئی کا جھنڈا، نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تنقید کی زد میں

عارف حیات نے کہاکہ ناراض اراکین وقتی طور پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ’نہ ملاقات ہوگی، نہ بجٹ میں رکاوٹ آئے گی۔ یہ محض سیاسی حربے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کا کریک ڈاؤن، تقریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہری بے دخل

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا

امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

امریکا نے افریقہ کے بہترین صومالی ریفری کو ورلڈ کپ سے باہر کر دیا، فیفا کی تصدیق

بلوچستان کا کوئی بچہ اب ٹاٹ پر بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے انقلابی اعلانات

ویڈیو

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب، مسلم لیگ ن کو شکست کی وجہ کیا بنی؟

جان بھی چلی جاتی تو افسوس نہ ہوتا، لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق کی داستان

بجٹ کی منظوری سے قبل بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، کن اہم امور پر گفتگو ہوئی؟

کالم / تجزیہ

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ