پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران مؤقف اختیار کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرم ہیں، جس کے باعث پاکستان کو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگرد حملوں کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں سے متعدد کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی جاتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے ایک بار پھر دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایک بیرونی قوت، جس کا اشارہ بھارت کی جانب تھا، پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کو ہوا دے رہی ہے۔
Right of Reply (Further Statement) by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad
Permanent Representative of Pakistan to the United Nations
During Meeting of the UN Security Council on the Situation in Afghanistan
(8 June 2026)
*******Thank you, Madam President,
I have, in fact, been… pic.twitter.com/WajanpaEgD
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 9, 2026
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین سمیت مختلف ممالک کی معاونت سے طالبان حکومت کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کیں، تاہم طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کی مذمت سے گریز تشویشناک ہے اور یہ ان گروہوں کی حمایت کا ثبوت سمجھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے افغانستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار واقعات کا ذکر تو کیا جاتا ہے، لیکن افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگرد خطرات اور ان کے پاکستان پر اثرات کو مناسب انداز میں اجاگر نہیں کیا جاتا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار
ان کے مطابق افغانستان میں غیر قانونی اسلحے کے ذخائر، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس بھی عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان کو درپیش انسانی بحران، خواتین اور بچیوں کے حقوق پر پابندیاں اور معاشی مشکلات طالبان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، تاہم یہ قیام غیر معینہ مدت کے لیے نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کا ماسٹر منصوبہ ساز بھارت جبکہ افغانستان سہولت کار ہے، برگیڈیئر آصف ہارون راجہ
اجلاس میں یوناما کی نائب نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے بتایا کہ 2023 سے اب تک تقریباً 59 لاکھ افغان اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں، لیکن افغانستان کی کمزور معیشت انہیں مکمل طور پر جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 38 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ خواتین پر عائد پابندیاں ملک کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟
اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا کہ افغانستان بدستور دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً نصف آبادی کو امداد کی ضرورت ہے اور غذائی عدم تحفظ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان نے اجلاس میں زور دیا کہ طالبان دہشتگردی کے خلاف قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کریں تاکہ افغانستان اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔














