ہائیڈرو کاربن یا ایرانی پیٹرول؟ عدالت کا آئل ٹینکرز کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ ایرانی تیل سے بھرے آئل ٹینکرز کو 3 سال سے کسٹمز تحویل میں رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹینکروں میں موجود مواد کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ 3 سال سے آتش گیر مواد سے بھرے آئل ٹینکرز کسٹمز حکام نے بند کر رکھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی گج ڈیم پر 62 ارب خرچ، کام 50 فیصد بھی مکمل نہیں، واپڈا کا آئینی عدالت میں اعتراف

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی کے سگریٹ جلانے سے آگ لگ جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا، انہوں نے کہا کہ آئل ٹینکرز کو اس طرح کھڑا رکھنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کسٹمز حکام کے اس اقدام کے باعث ٹینکروں کے ڈرائیورز اور اس شعبے سے وابستہ افراد بے روزگار ہوئے ہوں گے۔

سماعت کے دوران کسٹمز حکام کے وکیل وسیم سجاد نے موقف اختیار کیا کہ آئل ٹینکروں میں ایران سے اسمگل کیا گیا پیٹرول موجود ہے۔

مزید پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی

تاہم درآمد کنندگان کے وکیل نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکروں میں ایرانی پیٹرول نہیں بلکہ لائٹ ایلی فیٹک ہائیڈرو کاربن موجود ہے۔

اس موقع پر جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ ہائیڈرو کاربن کا کاروبار ایک بڑا شعبہ ہے اور اس میں مختلف کیمیکل ملا کر پیٹرول بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ٹینکروں میں موجود مواد کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ 15 روز کے اندر ٹیسٹ مکمل کیا جائے۔

مزید پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ٹیسٹ رپورٹ درست ثابت ہو تو مناسب سیکیورٹی کے عوض آئل ٹینکرز کو ریلیز کیا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت نے مزید حکم دیا کہ لیبارٹری ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ فورم 30 روز کے اندر اس معاملے کا حتمی فیصلہ کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp