سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیر صدارت انسداد اسموگ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور سمیت پنجاب کے رہائشی علاقوں اور گھروں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی اور منتقلی کے فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر رہائشی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی صنعتی یونٹس فوری ہٹانے اور ان کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے گئے۔ ساتھ ہی ایسے یونٹس کے جاری تمام این او سیز فوری منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسموگ کے خاتمے کے لیے پنجاب بھر میں بلاامتیاز کارروائیاں، متعدد یونٹس مسمار کرنے کا فیصلہ
سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتیں فضائی آلودگی کا بڑا سبب ہیں، جبکہ تار اور پلاسٹک جلانے سے خارج ہونے والی گیسیں گلے، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں سمیت کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ اربن انڈسٹریز کو مرحلہ وار اسپیشلائزڈ صنعتی زونز میں منتقل کیا جائے گا، جبکہ اس مقصد کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس میں نقشہ سازی، ماحولیاتی جائزہ اور آبادی کے تجزیے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

صنعتی منتقلی کے منصوبے کے تحت لاہور میں مجموعی طور پر 5 ہزار 206 غیر قانونی صنعتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 4 ہزار 514 رہائشی علاقوں میں قائم ہیں۔ ان صنعتوں کو ماحولیاتی اثرات کے مطابق پانچ درجات میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں 306 انتہائی زیادہ آلودگی اور 676 زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق صنعتی منتقلی کو قلیل، درمیانی اور طویل مدتی مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جبکہ صنعتکاروں کو اسپیشلائزڈ زونز میں رعایتی نرخوں پر زمین، بنیادی سہولیات اور مشینری کی درآمد میں سہولت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مارگلہ کے سائے میں اسموگ کا راج: کیا ہم نے اپنا ’گرین سٹی‘ کھو دیا؟
اجلاس میں صنعتی منتقلی کے لیے مستقل عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں محکمہ ماحولیات، لوکل گورنمنٹ، پیرا، پولیس، ایل ڈی اے، انڈسٹریز اور بورڈ آف ریونیو شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ٹائم لائنز، قانونی اصلاحات اور شکایات کے ازالے کی نگرانی کرے گی۔
سینیئر وزیر پنجاب نے کہا کہ صنعتی منتقلی کا بنیادی مقصد پنجاب کو صاف، محفوظ اور ماحول دوست بنانا ہے اور چند عناصر کے فائدے کے لیے پورے معاشرے کو آلودہ ماحول کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔














