بھارت کی ریاست پنجاب میں بھارتی فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مبینہ ہراساں کن رویے کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جہاں شہریوں نے فوجی اور پولیس اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: گرو ارجن دیو جی کے 420ویں یوم شہادت کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے بھارتی فوج کے خلاف نعرے بازی کی اور شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے بار بار چیکنگ، سخت نگرانی اور جارحانہ طرز عمل نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔
احتجاج میں کمیونٹی رہنماؤں، تاجروں، کسانوں اور مقامی شہریوں نے شرکت کی جنہوں نے سخت سکیورٹی اقدامات کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہونے اور شہری آزادیوں پر قدغن لگنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
جالندھر کینٹ میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج کے دوران دکانداروں اور مقامی رہائشیوں نے بازار بند کر کے فوج اور پولیس کی جانب سے قائم متعدد چیک پوسٹوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیے: پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلسل سیکیورٹی چیکنگ کے باعث خریداروں کی آمد کم ہو گئی ہے، کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور مقامی تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کئی مظاہرین نے نقل و حرکت پر پابندیوں اور طلبہ، مسافروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ عوامی سہولت اور سکیورٹی کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب ضلع مہت پور میں ایک 22 سالہ نوجوان کی پولیس کارروائی کے دوران ہلاکت کے بعد مقامی شہریوں اور کسان تنظیموں کے ارکان نے مہت پور پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکام نوجوان کی ہلاکت کے حوالے سے تسلی بخش وضاحت دینے میں ناکام رہے ہیں۔
بعد ازاں پولیس حکام کی جانب سے غیرجانبدارانہ تحقیقات، متاثرہ خاندان کو مالی معاوضے اور مقتول کے اہلخانہ کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ تحقیقات کے عمل کی نگرانی جاری رکھیں گے اور اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے تو دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
ان واقعات نے بھارتی پنجاب میں سکیورٹی فورسز کے کردار اور طرزِ عمل سے متعلق بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے سکیورٹی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب کے بعض حلقوں میں سکیورٹی کارروائیوں اور ان کے روزمرہ زندگی پر اثرات کے حوالے سے تحفظات اور شکایات بدستور موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں شرحِ پیدائش پہلی مرتبہ آبادی برقرار رکھنے کی حد سے نیچے
یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بھی سکھ علیحدگی پسند کارکنوں نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جہاں مظاہرین نے بھارتی حکومت اور فوج کے خلاف نعرے لگائے اور سکھ سیاسی مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔














