دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے فیفا عالمی کپ 2026 کا آغاز جمعرات سے ہونے جا رہا ہے تاہم ایونٹ کے آغاز سے قبل سیاسی تنازعات، سفارتی مسائل اور انتظامی چیلنجز توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب
امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اس عالمی مقابلے میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہوں گی۔ افتتاحی میچ میں میزبان میکسیکو کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے تاریخی ایستادیو ازٹیکا اسٹیڈیم میں ہوگا۔
ایران کا شکوہ
ٹورنامنٹ سے قبل سب سے نمایاں اعتراض ایران کی جانب سے سامنے آیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے ایرانی شائقین کے لیے مختص ٹکٹوں کی تعداد کم کر دی ہے اور فیڈریشن کے بعض اہلکاروں پر ویزا پابندیاں عائد کی ہیں۔ تاہم فیفا اور امریکی منتظمین نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت کو بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران کی شرکت یقینی بنانا آسان نہیں تھا۔
ادھر میکسیکو سٹی میں اساتذہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے اور لاپتا افراد کے لیے انصاف کے مطالبات پر احتجاج جاری ہے جس کے باعث افتتاحی میچ سے قبل سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ٹکٹس کی قیمتوں پر تنقید
مہنگے ٹکٹوں کی قیمتوں پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے باعث بعض شائقین، ایرانی حکام اور ایک بین الاقوامی ریفری کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مزید پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں نئی تاریخ رقم: 40 سال سے زائد عمر کے اسٹارز کی ریکارڈ تعداد ایکشن میں ہوگی
میکسیکو سٹی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے ٹکٹوں کی قیمتوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹکٹوں کی قیمتیں دیگر بڑے امریکی کھیلوں کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی تنقید کے بعد 60 ڈالر کے خصوصی ٹکٹ بھی جاری کیے گئے تھے۔
صومالی ریفری عمر آرتان کے داخلے پر پابندی
دوسری جانب صومالیہ کے ریفری عمر آرتان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے بعد واپس وطن لوٹنا پڑا جبکہ انگلینڈ کی ٹیم اپنے اہم کھلاڑی بکایو ساکا کی فٹنس پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہے جو ایڑی کی انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
انفانٹینو نے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری عمر آرتان کو امریکا میں داخلے سے روکنے کے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیفا ہر چیز پر مکمل اختیار نہیں رکھتا، تاہم مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
فیفا سربراہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کے بغیر امریکا میں ورلڈ کپ کا انعقاد ممکن نہ ہوتا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے چند میچز دیکھنے اسٹیڈیم جائیں گے۔
مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی نہ کرسکنے کے باوجود پاکستان اس میگا عالمی مقابلے کے لیے ناگزیر کیوں ہے؟
افتتاحی میچ سے قبل جنوبی افریقہ کے کوچ ہیگو بروس نے کہا کہ ان کی ٹیم کو 85 ہزار میکسیکن شائقین کے شور و غل کے باوجود اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھنا ہوگی۔ دوسری جانب میکسیکو کے کوچ خاویر اگیری نے امید ظاہر کی کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ کی تاریخ میں افتتاحی میچ میں فتح حاصل نہ کرنے کا ریکارڈ توڑ دے گی۔
ٹورنامنٹ کے آغاز کے روز دوسرا میچ جنوبی کوریا اور جمہوریہ چیک کے درمیان گواڈالاخارا میں کھیلا جائے گا۔
ورلڈ کپ میں اسپین، فرانس اور انگلینڈ کو مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا ایک بار پھر اپنے تجربہ کار کپتان لیونل میسی کی قیادت میں ٹائٹل کے دفاع کی کوشش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ 2026: سائنسدان 8 برسوں سے کونسی غیر معمولی چیز تیار کر رہے ہیں؟
ادھر انگلینڈ نے اپنی تیاریوں کے آخری میچ میں کوسٹا ریکا کو 0-3 سے شکست دے کر اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخیل نے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
تمام ٹیمیں اس وقت اپنی آخری تیاریوں میں مصروف ہیں اور وارم اپ مقابلوں کے ذریعے کھلاڑیوں اور شائقین کے جوش و خروش میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
گروپ مرحلے کا شیڈول
11 جون
میکسیکو بمقابلہ جنوبی افریقہ (گروپ اے) – میکسیکو سٹی اسٹیڈیم
جنوبی کوریا بمقابلہ جمہوریہ چیک (گروپ اے) – اسٹیڈیو گواڈالاخارا
12 جون
کینیڈا بمقابلہ بوسنیا و ہرزیگووینا (گروپ بی) – ٹورنٹو اسٹیڈیم
امریکا بمقابلہ پیراگوئے (گروپ ڈی) – لاس اینجلس اسٹیڈیم
13 جون
ہیٹی بمقابلہ اسکاٹ لینڈ (گروپ سی) – بوسٹن اسٹیڈیم
آسٹریلیا بمقابلہ ترکیہ (گروپ ڈی) – بی سی پلیس وینکوور
برازیل بمقابلہ مراکش (گروپ سی) – نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم
قطر بمقابلہ سوئٹزرلینڈ (گروپ بی) – سان فرانسسکو بے ایریا اسٹیڈیم
14 جون
آئیوری کوسٹ بمقابلہ ایکواڈور (گروپ ای) – فلاڈیلفیا اسٹیڈیم
جرمنی بمقابلہ کوراساؤ (گروپ ای) – ہیوسٹن اسٹیڈیم
نیدرلینڈز بمقابلہ جاپان (گروپ ایف) – ڈلاس اسٹیڈیم
سویڈن بمقابلہ تیونس (گروپ ایف) – اسٹیڈیو مونتری
15 جون
سعودی عرب بمقابلہ یوراگوئے (گروپ ایچ) – میامی اسٹیڈیم
اسپین بمقابلہ کیپ ورڈے (گروپ ایچ) – اٹلانٹا اسٹیڈیم
ایران بمقابلہ نیوزی لینڈ (گروپ جی) – لاس اینجلس اسٹیڈیم
بیلجیم بمقابلہ مصر (گروپ جی) – سیئیٹل اسٹیڈیم
16 جون
فرانس بمقابلہ سینیگال (گروپ آئی) – نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم
عراق بمقابلہ ناروے (گروپ آئی) – بوسٹن اسٹیڈیم
ارجنٹینا بمقابلہ الجزائر (گروپ جے) – کنساس سٹی اسٹیڈیم
آسٹریا بمقابلہ اردن (گروپ جے) – سان فرانسسکو بے ایریا اسٹیڈیم
17 جون
گھانا بمقابلہ پاناما (گروپ ایل) – ٹورنٹو اسٹیڈیم
انگلینڈ بمقابلہ کروشیا (گروپ ایل) – ڈلاس اسٹیڈیم
پرتگال بمقابلہ کانگو ڈی آر (گروپ کے) – ہیوسٹن اسٹیڈیم
ازبکستان بمقابلہ کولمبیا (گروپ کے) – میکسیکو سٹی اسٹیڈیم
ناک آؤٹ مرحلہ
راؤنڈ آف 32
28 جون تا 3 جولائی
راؤنڈ آف 16
4 جولائی تا 7 جولائی
کوارٹر فائنلز
9 جولائی تا 11 جولائی
سیمی فائنلز
14 جولائی – ڈلاس اسٹیڈیم
15 جولائی – اٹلانٹا اسٹیڈیم
تیسری پوزیشن کا میچ
18 جولائی – میامی اسٹیڈیم
فائنل
19 جولائی 2026
فاتح سیمی فائنل ون بمقابلہ فاتح سیمی فائنل 2
نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم
فیفا عالمی کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا عالمی کپ قرار دیا جا رہا ہے جس میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: عراق نے 40 سال بعد فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا، ترکیہ کا 24 سالہ انتظار ختم
منتظمین کو امید ہے کہ یہ ٹورنامنٹ شائقین کو یادگار مقابلے فراہم کرے گا تاہم افتتاح سے قبل سیاسی اور انتظامی چیلنجز بھی عالمی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔














