فٹبال کی دنیا میں نوجوان کھلاڑیوں کو ہمیشہ سب سے قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے تاہم جمعرات 11 جون سے کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کی میزبانی میں شروع ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 ایک مختلف تصویر پیش کر رہا ہے جہاں 40 سال یا اس سے زائد عمر کے ریکارڈ 8 کھلاڑی عالمی فٹبال کے سب سے بڑے مقابلے میں شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی نہ کرسکنے کے باوجود پاکستان اس میگا عالمی مقابلے کے لیے ناگزیر کیوں ہے؟
یہ تعداد گزشتہ تمام 22 ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر شریک ہونے والے 40 سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں سے بھی زیادہ ہے۔
اس سے قبل اس فہرست میں زیادہ تر گول کیپر شامل رہے ہیں جبکہ کیمرون کے معروف اسٹرائیکر راجر میلا واحد نمایاں آؤٹ فیلڈ کھلاڑی تھے جو سنہ 1994 کے ورلڈ کپ میں 42 سال کی عمر میں گول کر کے تاریخ کے معمر ترین گول اسکورر بنے تھے۔
اگرچہ راجر میلا کا یہ منفرد ریکارڈ اس بار ٹوٹنے کا امکان نہیں تاہم پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، کروشیا کے لوکا موڈرچ اور بوسنیا کے ایڈن ژیکو اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔
مزید پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ 2026: سائنسدان 8 برسوں سے کونسی غیر معمولی چیز تیار کر رہے ہیں؟
اس ٹورنامنٹ کے معمر ترین کھلاڑی اسکاٹ لینڈ کے 43 سالہ گول کیپر کریگ گورڈن ہوں گے۔ اگر وہ میدان میں اترتے ہیں تو وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے دوسرے معمر ترین کھلاڑی بن جائیں گے۔ یہ اعزاز اس وقت مصر کے عصام الحضری کے پاس ہے جنہوں نے سال 2018 کے ورلڈ کپ میں 45 سال کی عمر میں سعودی عرب کے خلاف میچ کھیلا تھا۔
تاہم اسکاٹ لینڈ کی ٹیم میں کریگ گورڈن کے پہلے انتخابی گول کیپر کے طور پر کھیلنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں اور توقع ہے کہ وہ بیک اپ کردار ادا کریں گے۔
41 سالہ کرسٹیانو رونالڈو اس ورلڈ کپ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی ہیں اور وہ ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ اعزاز میکسیکو کے 40 سالہ گول کیپر گیلرمو اوچوا اور ارجنٹائن کے لیونل میسی کے ساتھ مشترک ہے جو رواں ماہ 39 برس کے ہو جائیں گے۔
پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینز کا کہنا ہے کہ رونالڈو کی سب سے بڑی طاقت ان کا بے پناہ تجربہ ہے۔ ان کے مطابق کوئی دوسرا کھلاڑی اتنے اہم اور فیصلہ کن مقابلوں کا تجربہ نہیں رکھتا جتنا رونالڈو کے پاس موجود ہے۔
مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا نیا آفیشل گانا جاری، شکیرا کے ’ڈائی ڈائی‘ نے دھوم مچا دی
ورلڈ کپ میں شریک دیگر 40 سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا، جرمنی کے عالمی چیمپیئن گول کیپر مینوئل نوئر اور یوراگوئے کے فرنینڈو موسلیرا شامل ہیں۔ موسلیرا اپنی ٹیم کے پہلے میچ کے اگلے روز اپنی 40ویں سالگرہ منائیں گے۔
اگرچہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو حالیہ برسوں میں مختلف انجری مسائل کا شکار رہے ہیں تاہم ان کی عظمت پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔ میسی نے گزشتہ ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کو عالمی چیمپیئن بنایا تھا، جبکہ رونالڈو ورلڈ کپ کی تاریخ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے کھیلے گئے تمام 5 ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ ورلڈ کپ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید فٹبال میں اگرچہ رفتار اور نوجوانی اہم عوامل ہیں لیکن تجربہ، ذہانت اور اعلیٰ فٹنس رکھنے والے کھلاڑی عمر کی روایتی حدود کو چیلنج کرتے ہوئے اب بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
ورلڈ کپ 2026 میں شریک 40 سال سے زائد عمر کے کھلاڑی

40 سال یا اس سے زائد عمر کے کھلاڑیوں میں اسکاٹ لینڈ کے گول کیپر کریگ گورڈن (43 سال)، پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو (41 سال)، کروشیا کے لوکا موڈرچ (40 سال)، بوسنیا و ہرزیگووینا کے ایڈن ژیکو (40 سال)، میکسیکو کے گول کیپر گیلرمو اوچوا (40 سال)، جرمنی کے گول کیپر مانویل نوئر (40 سال)، یوراگوئے کے گول کیپر فرنینڈو موسلیرا (40 سال) اور کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا (40 سال) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 2026 میں کھیلوں کے بڑے عالمی مقابلے، فٹبال ورلڈ کپ، ومبلڈن اور دیگر اہم ایونٹس
یہ کھلاڑی فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنی ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے عمر اور تجربے کی نئی مثال قائم کریں گے۔














