چین نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور تنازعات کے حل کے لیے دوبارہ سفارتی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آج رات ایران پر شدید حملہ کرے گا، تیل و گیس کے مراکز پر بھی قبضہ کرلیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بیجنگ خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے اس بات پر شدید تشویش ہے کہ جاری فوجی تصادم مشرق وسطیٰ کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا استعمال کسی بھی صورت بحران کا پائیدار حل نہیں اور فوجی کارروائیاں صرف کشیدگی میں مزید اضافہ کریں گی۔
لن جیان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ خطے کے ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجی کارروائیاں روکیں، مذاکرات اور سفارتی رابطے بحال کریں اور جلد جنگ بندی کے لیے جاری ثالثی کوششوں کی حمایت کریں۔
چینی ترجمان کے مطابق چین کشیدگی کے آغاز سے ہی ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیے: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطے کا انکشاف
چین کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 ہفتوں سے فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے خلیجی خطے میں امریکا کے 18 اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے حالیہ امریکی میزائل کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں تہران کے مغرب میں واقع کرج اور نظرآباد کے قریب مختلف مقامات، ایک صنعتی کمپلیکس، تفریحی مرکز اور پشوا کاؤنٹی میں پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس سے ایک روز قبل بھی چین نے امریکی فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کی تھی۔ واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے جواب میں کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے خفیہ طور پر لاکھوں بیرل تیل منتقل کرنے کا دعویٰ
جوابی کارروائی میں ایران نے خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا اعلان کیا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر ایران کے عزم کو آزمانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے مفادات کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
چین نے ایک بار پھر دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، مزید کشیدگی سے گریز کرنے اور سیاسی و سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات ہی ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں اور خطے کو مزید بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج رات ایران کو ’بہت سخت جواب‘ دے گا جبکہ مستقبل قریب میں ایران کے اہم تیل و گیس کے مراکز پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امن معاہدہ: ایران نے بہت وقت ضائع کیا ہے، تاخیر کی قیمت چکانی پڑے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
مبصرین کے مطابق چین کا تازہ مؤقف اس بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان تنازع جلد سفارتی سطح پر حل نہ ہوا تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔














