پاکستان کے دریائی حقوق اور آبی سلامتی کے حوالے سے بھارت کی پالیسیوں پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی دریائے سندھ کے نظام سے متعلق یکطرفہ اقدامات کے ذریعے ایک اہم قدرتی وسیلے کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک تجزیے کے مطابق بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر عارضی طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ اور ’ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جائے گا‘ جیسے بیانات خطے میں آبی تنازع کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا دریائی پانی سے متعلق یہ مؤقف محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں بلکہ اسے مختلف بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جن میں چناب بیاس لنک ٹنل منصوبہ نمایاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ منصوبے کے ذریعے بالائی چناب بیسن سے بڑے پیمانے پر پانی کا رخ موڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض اندازوں میں پانی کی ممکنہ منتقلی کو 60 لاکھ ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) تک بتایا گیا ہے۔ تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات پاکستان کی زراعت، معیشت اور کروڑوں افراد کی پانی تک رسائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کے متنازع آبی منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار، خطے میں امن کے لیے سفارتکاری جاری، ترجمان دفتر خارجہ
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دریائے چناب سمیت مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حقوق سندھ طاس معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور بین الاقوامی قانونی اصول بھی سرحد پار دریاؤں کے منصفانہ استعمال پر زور دیتے ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو نظر انداز کرنا بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ آبی فریم ورک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ناقدین کے مطابق پانی جیسے بنیادی وسیلے کو سیاسی اور تزویراتی دباؤ کے لیے استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ بالائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ڈیمز اور پانی کے رخ میں تبدیلیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے ہمالیائی خطے کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے سیلاب، خشک سالی اور ماحولیاتی عدم توازن جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ آبی تنازعات، خاص طور پر دو ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان، کسی بھی صورت میں کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حل کیے جانے چاہییں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دریائی پانی کی تقسیم کسی سیاسی فیصلے کے تابع نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔














