پی ایس ڈی پی: سائنسی تحقیق اور خلائی پروگرام کے لیے 8.46 ارب مختص، یورپی اور امریکی جامعات کے بجٹ سے کئی گنا کم

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 میں سائنس، ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے شعبوں کے لئے مجموعی طور پر تقریباً 8.46 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ پی ایس ڈی پی دستاویز کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے لیے 3.567 ارب روپے جبکہ سپارکو کے خلائی پروگراموں کے لیے 4.895 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں حکومت نے بھنگ کی تجرباتی کاشت، سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن فیسیلیٹیشن سینٹر کا قیام، گوادر میں اوشنوگرافک تحقیقاتی مرکز، اور تحقیقی اداروں کو جدید کرنا شامل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026: الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کا اعلان

اہم منصوبوں میں گلگت بلتستان میں نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور اہم معدنیات کی تلاش کے لیے 10 کروڑ روپے، پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے 5 کروڑ 37 لاکھ روپے، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں سینٹر آف ریسرچ ان سرفیس انجینئرنگ کے لیے 7 کروڑ 65 لاکھ روپے اور سائنسی آلات کے قومی ڈیٹا ذخیرے، بائیوٹیکنالوجی، میڈیکل ڈیوائسز، سمندری تحقیق اور اسٹیم تعلیم سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

خلائی انسانی مشن کے لئے ایک ارب 29 کروڑ مختص

خلائی شعبے میں سپارکو کے لیے سب سے نمایاں منصوبہ پاکستان کا پہلا انسانی خلائی مشن ہے جس کے لیے 1.29 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ڈیپ اسپیس فلکیاتی رصدگاہوں کے قیام کے لیے 1.16 ارب روپے، پاکستان آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کے لیے 90 کروڑ روپے اور پاکستان اسپیس سینٹر کے لیے تقریباً 99 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026: ٹیکس اصلاحات کے لیے پچھلے سال سے بھی کم، 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص

دستاویز کے مطابق چین کے چانگ ای ایٹ پروگرام کے لیے پاکستانی لونر ایکسپلوریشن روور کی تیاری پر بھی 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

پی ایس ڈی پی میں دو نئے خلائی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں پاک سیٹ ٹو سیٹلائٹ سسٹم اور جیو اسپیشل کمپلیکس (جیو اے آئی انوویشن اینڈ ڈیولپمنٹ حب) شامل ہیں، جن کے لیے ابتدائی طور پر 10،10 کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔

پاکستان کا سائنسی تحقیق بجٹ بمقابلہ ترقی یافتہ ممالک

سائنسی اور خلائی تحقیق کے پروگراموں کے لئے مشترکہ طور پر 8 ارب 46 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں یہ رقم امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایک روز کے بجٹ سے بھی کم ہے کیونکہ ناسا کا بجٹ 25 ارب ڈالر ہے۔ مشہور امریکی یونیورسٹی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سالانہ تحقیقاتی پروگرام پر ایک ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرتی ہے، اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کا تحقیقاتی بجٹ 2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدید اے آئی ماڈلز چند ماہ میں سنگین سائبر خطرہ بن سکتے ہیں، خطرناک انتباہ جاری

حج 2027 کی آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، پہلے 24 گھنٹوں میں 20 ہزار سے زائد درخواستیں موصول

5 ہزار روپے کے نوٹ پر قائداعظم کے ساتھ نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کی تجویز، ماضی میں کب ایسے مطالبات ہوئے؟

جعلی رسید نہیں، اصل ٹیکس: پنجاب حکومت کا ٹیکس چوروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

بی آئی ایس پی اور بیت المال کی ڈیجیٹلائزیشن جاری، بلوچستان کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے، عمران شاہ

ویڈیو

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

عالمی رہنماؤں کی پاکستان سے غیر معمولی محبت، پشاور کےشہری کیا کہتے ہیں؟

ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا