وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 میں سائنس، ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے شعبوں کے لئے مجموعی طور پر تقریباً 8.46 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ پی ایس ڈی پی دستاویز کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے لیے 3.567 ارب روپے جبکہ سپارکو کے خلائی پروگراموں کے لیے 4.895 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں حکومت نے بھنگ کی تجرباتی کاشت، سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن فیسیلیٹیشن سینٹر کا قیام، گوادر میں اوشنوگرافک تحقیقاتی مرکز، اور تحقیقی اداروں کو جدید کرنا شامل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026: الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کا اعلان
اہم منصوبوں میں گلگت بلتستان میں نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور اہم معدنیات کی تلاش کے لیے 10 کروڑ روپے، پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے 5 کروڑ 37 لاکھ روپے، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں سینٹر آف ریسرچ ان سرفیس انجینئرنگ کے لیے 7 کروڑ 65 لاکھ روپے اور سائنسی آلات کے قومی ڈیٹا ذخیرے، بائیوٹیکنالوجی، میڈیکل ڈیوائسز، سمندری تحقیق اور اسٹیم تعلیم سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
خلائی انسانی مشن کے لئے ایک ارب 29 کروڑ مختص
خلائی شعبے میں سپارکو کے لیے سب سے نمایاں منصوبہ پاکستان کا پہلا انسانی خلائی مشن ہے جس کے لیے 1.29 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ڈیپ اسپیس فلکیاتی رصدگاہوں کے قیام کے لیے 1.16 ارب روپے، پاکستان آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کے لیے 90 کروڑ روپے اور پاکستان اسپیس سینٹر کے لیے تقریباً 99 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026: ٹیکس اصلاحات کے لیے پچھلے سال سے بھی کم، 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص
دستاویز کے مطابق چین کے چانگ ای ایٹ پروگرام کے لیے پاکستانی لونر ایکسپلوریشن روور کی تیاری پر بھی 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
پی ایس ڈی پی میں دو نئے خلائی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں پاک سیٹ ٹو سیٹلائٹ سسٹم اور جیو اسپیشل کمپلیکس (جیو اے آئی انوویشن اینڈ ڈیولپمنٹ حب) شامل ہیں، جن کے لیے ابتدائی طور پر 10،10 کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔
پاکستان کا سائنسی تحقیق بجٹ بمقابلہ ترقی یافتہ ممالک
سائنسی اور خلائی تحقیق کے پروگراموں کے لئے مشترکہ طور پر 8 ارب 46 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں یہ رقم امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایک روز کے بجٹ سے بھی کم ہے کیونکہ ناسا کا بجٹ 25 ارب ڈالر ہے۔ مشہور امریکی یونیورسٹی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سالانہ تحقیقاتی پروگرام پر ایک ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرتی ہے، اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کا تحقیقاتی بجٹ 2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔














