بجٹ 27-2026: ملاوٹ شدہ تیل کے خلاف سخت اقدامات، مہنگی درآمدی گاڑیوں اور لگژری ’ایس یو ایس‘ پر نئے ٹیکس تجویز

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کی روک تھام اور مہنگی درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے لیے اہم اقدامات تجویز کیے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا پہلا اہم اقدام جعل سازی اور پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کے خلاف ہے، جبکہ دوسرا اقدام معاشی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پٹرول میں ملاوٹ کے لیے استعمال ہونے والے سالوینٹس پر 80 روپے فی لیٹر ڈیوٹی

محمد اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم بیسڈ سالوینٹس، جن میں ‘وائٹ اسپرٹ’، ‘پیٹرولیم نیفتھا’ اور ‘منرل ٹرپین آئل’ شامل ہیں، پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: ٹیکس اصلاحات کے لیے پچھلے سال سے بھی کم، 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص

انہوں نے کہا کہ یہ مصنوعات پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے دائرہ کار سے باہر ہیں، تاہم انہیں پٹرول اور دیگر تیلوں میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ملاوٹ سے صارفین اور صنعت دونوں متاثر

وزیر خزانہ کے مطابق تیل میں ملاوٹ کے باعث ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں، جنریٹرز اور صنعتی مشینری متاثر ہوتی ہے، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ گاڑیوں اور آلات کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ تیل کی فروخت سے ایماندار کاروباری طبقے کو بھی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ انہیں ایسے عناصر سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ مصنوعات فروخت کر کے ناجائز منافع کماتے ہیں۔

مہنگی درآمدی گاڑیوں اور ’ایس یو وی ایس‘ پر اضافی ٹیکس

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے معاشی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کے تحت مہنگی درآمدی گاڑیوں اور بڑی انجِن والی اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلزپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اقدام کے تحت 2000 سی سی سے زائد اور 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں اور ’ایس یو وی ایس‘ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو کی جائے گی، جبکہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

لگژری الیکٹرک گاڑیاں بھی ٹیکس کی زد میں

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت صرف روایتی ایندھن سے چلنے والی مہنگی گاڑیوں ہی نہیں بلکہ قیمتی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر بھی یہی ٹیکس لاگو ہوگا۔

ٹیکس نظام میں توازن لانے کی کوشش

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کا مقصد عام صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے زیادہ مالی استطاعت رکھنے والے طبقے کو قومی محصولات میں مناسب حصہ ڈالنے کا پابند بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مہنگی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کر کے محصولات میں اضافہ اور معاشی انصاف کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی