ڈنمارک اور پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مشترکہ قرارداد پیش کی ہے جس میں دنیا بھر میں تعینات اقوام متحدہ کے امن دستوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کو سزا سے بچ نکلنے کے رجحان کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کو جلد ووٹنگ کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ قرارداد میں اس ’کلچر آف امپنیٹی‘ پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے جس نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی حفاظت کو خطرات سے دوچار کیا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ امن دستے دنیا کے انتہائی خطرناک علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ان پر حملوں کے مقدمات میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔
قرارداد کے مطابق ان حملوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا بنیادی طور پر میزبان ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ریاستیں بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کے تحت تمام ضروری اقدامات کریں تاکہ مجرموں کی شناخت اور گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات پر روس کا اقوام متحدہ میں تشویش کا اظہار
پاکستان اور ڈنمارک کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے نظام کے اندر ایک مستقل رابطہ کار مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ ایسے واقعات کی تحقیقات اور بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ متاثرہ ممالک کو تربیت یافتہ تحقیقاتی ٹیمیں بھیجنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
قرارداد میں امن دستوں پر حملوں میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جن میں جدید ہتھیاروں، بم دھماکوں اور ڈرون حملوں کے استعمال کا ذکر شامل ہے۔ متن کے مطابق 2013 سے اب تک افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں امن اہلکار جان سے جا چکے ہیں جبکہ زیادہ تر واقعات میں ذمہ داران کو سزا نہیں مل سکی۔













