وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آزاد جموں کشمیر (اے جے کے) کی کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہنا سمجھ سے باہر ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
2 چھوڑ کر سارے نکات مانے، پھر بھی راضی نہیں
وزیر داخلہ محسن نقوی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی ہر ڈیمانڈ مانتے جاتے ہیں۔ وہ جتنے نکات لائے اور ہم نے ان میں سے 2 کو چھوڑ کر سارے مان لیے، لیکن اس کے باوجود وہ راضی نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ریاست کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، ایکشن کمیٹی احتجاج کی کال واپس لے، وزیراعظم آزاد کشمیر
کالعدم ایکشن کمیٹی والے پہلے گندم پر رعایت لے گئے، پھر بجلی پر احتجاج شروع کر دیا۔ اب بجلی کی قیمت انتہائی کم کر دی گئی ہے، تب بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس طرح تو پھر ہمیں بھی یہاں احتجاج کرنا چاہیے کیونکہ یہاں بجلی زیادہ مہنگی ہے۔‘
پیٹرولیم قیمتوں پر کنٹرول اور عالمی بحران
تیل کی قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی حالات کی خرابی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ’پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 500 روپے سے بھی تجاوز کرنے لگی تھی، لیکن ہم نے بہت مشکل سے قیمتوں کو کنٹرول کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے خارجہ تعلقات کو استعمال کر کے وقت پر فیول اکٹھا کر لیا تھا، ورنہ ملک میں یکمشت 200 سے ڈھائی سو روپے فی لیٹر کا جمپ لگنا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس بڑے بحران سے بچ گئے اور اب ملک میں حالات کافی بہتر ہیں۔‘
زراعت میں تنزلی پر تشویش اور پاک امریکا ایران امور
وزیر داخلہ نے معیشت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ڈاؤن فال (تنزلی) ہونا ہمارے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کا معاہدہ بہت جلد ہو جائے گا، جس میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
اڑھائی، اڑھائی سال کا فارمولا؟ حکومت مدت پوری کرے گی‘
میڈیا نمائندوں کی جانب سے حکومت کی تبدیلی اور ’ڈھائی ڈھائی سال کے فارمولے‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ’ڈھائی ڈھائی سال کا کوئی بھی منصوبہ میرے علم میں نہیں ہے، یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔‘














