امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کل ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ سابق صدر باراک حسین اوباما کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ دراصل ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ایک آسان، خوشگوار اور ہموار راستہ تھا، جس کے نتیجے میں ایران 6 سال قبل ہی ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا اور انہیں بہت پہلے استعمال بھی کر چکا ہوتا۔
مزید پڑھیں: آئندہ 24 گھنٹوں میں امریکا ایران معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے اور یہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایران اب نہ صرف جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش نہیں رکھتا بلکہ وہ کسی بھی صورت، چاہے خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اس معاہدے پر کل دستخط متوقع ہیں اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ موجودہ امریکی تعلقات ماضی کی انتظامیہ کے مقابلے میں مختلف اور بہتر نوعیت کے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر کی ادائیگیاں کیں، جن میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم بھی شامل تھی، تاہم موجودہ معاہدے کے تحت کسی قسم کی مالی لین دین نہیں ہوگی اور کوئی رقم ایک دوسرے کو منتقل نہیں کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہاکہ مناسب وقت آنے پر جب حالات مکمل طور پر پُرسکون ہوں گے، امریکا گہرے دبے ہوئے جوہری مواد تک رسائی حاصل کرے گا، جو طاقتور گرینائٹ پہاڑوں کے نیچے دفن ہے۔
ان کے بقول یہ سب امریکی بی ٹو بمبار طیاروں اور ان کے ماہر پائلٹس کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس جوہری مواد کو خواہ ایران میں ہو یا امریکا میں، کم افزودہ کرکے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائےگا۔
امریکی صدر نے کہاکہ وہ ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ طویل المدتی بنیادوں پر کام کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ پورا عمل جلد، آسانی اور خوش اسلوبی سے مکمل ہو جائےگا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کی ٹوئٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردی
تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس آخری متبادل بھی موجود ہے، جسے وہ امید کرتے ہیں کہ دوبارہ کبھی استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔














