سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں فرانس کے شہر ایویان میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے خلاف نکالے گئے ایک بڑے مظاہرے کے دوران بعض مقامات پر جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔
جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جی 77 اور چین وزارتی اجلاس: جنوبی ممالک کے مفادات کا ہر سطح پر تحفظ کریں گے، اسحاق ڈار
اتوار کو تقریباً 20 ہزار افراد نے جینیوا کی سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے دنیا کی امیر ترین جمہوریتوں کے رہنماؤں کے اجتماع کے خلاف احتجاج کیا۔
جی 7 اجلاس پیر کے روز جھیل جنیوا کے پار واقع فرانسیسی تفریحی شہر ایویان میں شروع ہو رہا ہے۔
Violent confrontations took place between police and some demonstrators in Geneva ahead of the G7 summit across the border in Evian, France. Youth groups voicing anger over capitalism, globalisation and inequality set bonfires and smashed windows of a bank as Swiss riot police… pic.twitter.com/Hp5U6C8X8r
— TRT World (@trtworld) June 15, 2026
حکام نے مظاہرے کے لیے شہر کے مرکزی تجارتی علاقے سے دور ایک مخصوص راستے کی اجازت دی تھی تاکہ 2003 کے جی 8 اجلاس کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات کی تکرار سے بچا جا سکے۔
شدید گرمی کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد نے پرامن انداز میں مارچ کیا۔ شرکا فلسطینی پرچم اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بینرز اٹھائے ہوئے تھے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی فوجی اتحادوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر ’جی 7 اور تمام سامراجی اتحادوں کو نہیں‘ اور ’جی 7 کو مسترد کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

فلسطینی پرچم بردار 69 سالہ سوئس شہری مشیل نے کہا کہ وہ اس لیے احتجاج میں شریک ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ چند رہنما ایسے فیصلے کریں جو پوری دنیا کے لوگوں کو متاثر کرتے ہوں۔
بعد ازاں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب سیاہ لباس میں ملبوس بعض مظاہرین مرکزی جلوس سے الگ ہو گئے۔
ان افراد نے رکاوٹیں توڑیں، مہنگی رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

ایک ٹیسلا گاڑی کو بھی نذر آتش کر دیا گیا جس پر ’امیروں کو کھاؤ‘ کا نعرہ اسپرے کیا گیا تھا، اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈکوارٹرز کے قریب واقع بعض عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پولیس کے مطابق تشدد آمیز کارروائیوں میں تقریباً 600 ’بلیک بلاک‘ کے کارکن ملوث تھے۔
جی 7 سربراہی اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد یہ پہلا بڑا بین الاقوامی اجتماع ہے۔












