امریکا اور ایران کے درمیان 107 روز سے جاری خونریز جنگ اور شدید فوجی کشیدگی کے بعد بالآخر ایک عبوری فریم ورک امن معاہدہ طے پا گیا ہے. اس تاریخی کامیابی کا باقاعدہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے کیا گیا ہے.
معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے خاتمے اور تجارتی جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو فوری طور پر کھولنے پر اتفاق ہوا ہے.
سوئٹزرلینڈ میں دستخطی تقریب اور حل طلب امور
وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق اس تاریخی امن معاہدے کی باقاعدہ اور آفیشل دستخطی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد کی جائے گی. اگرچہ فوری طور پر دشمنی کا خاتمہ کر کے جنگ روک دی گئی ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے پیچیدہ امور کو آنے والے وقت میں مستقل مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا.
جنگ کا آغاز اور تہران میں بڑی ہلاکتیں
اس بھیانک تنازع کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی اور سمندری حدود سے اچانک بڑا حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں تہران میں رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب سمیت متعدد دھماکے ہوئے.
اس دوران جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت اسکولی طالبات کی تھی. اس حملے کے چوبیس گھنٹے بعد یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کر دی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور دیگر اعلیٰ حکام ان حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں.
ایران کی جوابی کارروائیاں اور نئے سپریم لیڈر
امریکا اور اسرائیل کی اس جارحیت کے جواب میں ایران نے خلیج کے کم از کم سات ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے شدید جوابی کارروائیاں کیں، جس سے متحدہ عرب امارات اور کویت میں ہوائی اڈوں، قطر میں رہائشی علاقوں، اردن میں بیلسٹک میزائلوں اور بحرین میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ سمیت شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا.
ان حملوں کے نتیجے میں قطر میں 11 دھماکوں کے دوران 16 افراد جبکہ عمان کی دقم تجارتی بندرگاہ پر ایک شخص زخمی ہوا. اس بحران کے دوران 9 مارچ کو ایران کی ‘مجلسِ خبرگان’ (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آنجتہانی رہبرِ اعلیٰ کے دوسرے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا تاکہ گرتے ہوئے فوجی دباؤ میں اقتدار کو مستحکم رکھا جا سکے.
تاریخی مقامات پر حملے اور سمندری محاذ
3 مارچ کو ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں ‘اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ’ کے کمپلیکس اور یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ ‘گلستان پیلس’ کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد ایران میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی.
5 مارچ کو ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے قریب بحری تعیناتی سے واپس آنے والے ایرانی بحری جہاز ‘آئی آر آئی ایس ڈینا’ کو ٹورپیڈو سے نشانہ بنایا، جس میں 80 کے قریب ایرانی ملاح ہلاک ہوئے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس پر شدید احتجاج کیا.
مارچ کے وسط تک آتے آتے یہ جنگ زمین سے نکل کر سمندری حدود، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہوگئی جہاں ایران نے تیل کی سپلائی اور تجارتی جہازوں پر براہ راست سفاکانہ حملے شروع کردیے.
انسانی بحران اور امریکی ایئر ریفیولر کی تباہی
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، 12 مارچ تک اس امریکی و اسرائیلی کارپٹ بمباری کی وجہ سے ایران میں 32 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے تھے، کیونکہ ہسپتالوں، آئل ڈپو اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا.
اسی دوران ایران نے خلیجی ممالک پر جوابی حملے جاری رکھے، جہاں سعودی عرب میں کئی ڈرونز مار گرائے گئے اور عمان کی صلالہ بندرگاہ کے فیول ٹینکوں پر حملے رپورٹ ہوئے.
13 مارچ کو عراقی عسکریت پسندوں نے تاریخ میں پہلی بار مغربی عراق کی فضاؤں میں ایک امریکی ایئر ریفیولر طیارے کو مار گرایا جس میں سوار تمام چاروں عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک اور ٹینکر کو نقصان پہنچا.
خارگ آئی لینڈ پر بمباری اور ایرانی حکام کی ہلاکتیں
14 مارچ کو امریکی افواج نے ایران کے سب سے بڑے تیل برآمدی مرکز ‘خارگ آئی لینڈ’ پر رات کے وقت بمباری کی، جسے واشنگٹن نے پاسدارانِ انقلاب کی بحری تنصیبات قرار دیا، جبکہ جواب میں ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں دھماکوں کا دھواں دیکھا گیا.
17 مارچ کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے، جس کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹی وی پر کرتے ہوئے نئے ایرانی سپریم لیڈر کو بھی نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا.
اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے باسیج نیم فوجی دستوں کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاکت کی بھی تصدیق کی، جس کے بعد 20 مارچ کو آنے والا نیا فارسی سال ‘نوروز’ بلیک آؤٹ اور معاشی بدحالی کی وجہ سے انتہائی سادگی سے گزرا.
صدر ٹرمپ کی دھمکیاں اور پاکستان کا سفارتی کردار
22 مارچ کو صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی خطرے کے مکمل نہ کھولا تو امریکا اس کے سب سے بڑے پاور پلانٹس کو مٹی میں ملا دے گا. تاہم، اگلے ہی دن 23 مارچ کو ٹرمپ نے اس الٹی میٹم میں 5 روز کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت تعمیری بات چیت ہوئی ہے.
24 مارچ کو پاکستان نے ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر ایک بڑا سفارتی محاذ سنبھالا، کیونکہ اس وقت تک ایران میں 82,000 سے زائد شہری عمارتیں تباہ ہو چکی تھیں. نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 26 مارچ کو تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ ہورہا ہے جس پر فریقین نے اعتماد کا اظہار کیا ہے.
29 مارچ کو اسلام آباد میں ایک چار ملکی اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی.
بیجنگ کا 5 نکاتی فارمولا اور اسلام آباد مذاکرات کا پہلا دور
یکم اپریل کو پاکستان اور چین نے بھی بیجنگ میں ملاقات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک 5 نکاتی فارمولا پیش کیا. 2 اپریل کو وائٹ ہاؤس سے خطاب میں ٹرمپ نے ایرانی صلاحیتیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ 4 اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ نے واشنگٹن میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کیا کہ ایران نے اسلام آباد آنے سے انکار کیا ہے.
5 اپریل کو ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد حیفہ سمیت شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور 7 اپریل کو تہران نے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو 10 پیراگراف پر مشتمل جواب بھجوایا. پاکستان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک 8 اپریل کو فوری جنگ بندی پر راضی ہوئے اور 10 اپریل کو اسلام آباد کو فوج کی نگرانی میں ہائی الرٹ کر کے مذاکرات کا آغاز ہوا.
اس تاریخی بیٹھک کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اپنے وفود کے ہمراہ پاکستان پہنچے، جہاں یہ بات چیت تقریباً 21 سے 24 گھنٹے تک جاری رہی، تاہم مستقل شرائط پر اختلافات کی وجہ سے یہ دور بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گیا.
بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ‘پروجیکٹ فریڈم’ کا آغاز
مذاکرات کی ناکامی کے بعد 13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا اور مئی کے آغاز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے 4 مئی کو ‘پروجیکٹ فریڈم’ شروع کیا. اسی دن متحدہ عرب امارات کے آئل زون پر ایرانی ڈرون حملہ ہوا اور 3 میزائل مار گرائے گئے، جس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سخت ردعمل کا انتباہ دیا.
8 مئی کو ایران نے امریکا پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر امریکی فوجی جہازوں پر جوابی حملہ کیا، جس کے بعد 11 مئی کو عمان میں سخت شرائط کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات کی تیاری کی گئی، جہاں 14 مئی کو نئے ایرانی سپریم لیڈر نے نئی ڈیل کے لیے کسی بھی مذاکرات کو ‘زہر’ قرار دے کر مسترد کر دیا.
15 مئی کو ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ امریکا نے پاکستان کے احترام اور اس کی قیادت کی درخواست پر سیز فائر کو قبول کیا ہے.
محسن نقوی اور جنرل عاصم منیر کے تہران کے ہنگامی دورے
18 مئی کو ایران نے آبنائے ہرمز کے لیے ‘پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی’ قائم کی اور 20 مئی کو محمد باقر قالیباف نے امریکا کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر سخت جواب کی دھمکی دی.
اس خطرناک تعطل کو توڑنے کے لیے پاکستان نے اپنی ثالثی کو تیز کرتے ہوئے مئی کے آخری ہفتے میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو ہنگامی دورے پر تہران بھیجا، جس کا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا.
25 مئی کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ سپریم لیڈر کا ہوگا جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے. 26 مئی کو امریکی سینٹکام نے جنوبی ایران میں مائنز بچھانے والی کشتیوں پر سیلف ڈیفنس حملے کیے اور 30 مئی کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے طویل جائزہ اجلاس ہوا.
‘اسلام آباد مفاہمت’ اور حتمی بریک تھرو
جون کے آغاز میں لبنان کی صورتحال اور اسرائیل کی کارروائیوں کے باعث ایران نے بالواسطہ روابط عارضی طور پر منقطع کیے، اور 6 جون کو امریکا نے قشم جزیرے اور گورک میں ایرانی ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا. تاہم، تمام تر رکاوٹوں کے باوجود 10 جون کو مسقط میں چھٹے دور کی منصوبہ بندی کی گئی اور 13 و 14 جون کو وزیر اعظم شہباز شریف نے نوید سنائی کہ پاکستان کی تیار کردہ الیکٹرانک سائننگ اور تکنیکی معاونت کے بعد فریقین ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ کے متن پر مکمل راضی ہو چکے ہیں.
آج 15 جون کو اس تاریخی فریم ورک امن معاہدے کی باقاعدہ منظوری کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان طویل جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا ہے.














