پیپلز پارٹی کے بجٹ اعتراضات پر حکومت متحرک، تحفظات دور کرنے کے لیے رابطے تیز

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی بجٹ 27-2026 پر اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد حکومت نے معاملات سنبھالنے اور اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے بجٹ پر اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد حکومتی شخصیات نے پارٹی قیادت سے رابطہ کیا ہے اور ان کے تحفظات سے آگاہی حاصل کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے اعتراضات وزیراعظم شہباز شریف تک پہنچانے اور انہیں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026 میں عوام کے لیے کیا کچھ اچھا رہا؟

پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کا مؤقف ہے کہ وفاقی بجٹ میں بعض نکات ایسے شامل ہیں جو بجٹ سے قبل پارٹی کے ساتھ شیئر کیے گئے مسودے سے مختلف ہیں، جبکہ بعض وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہی تحفظات کے باعث چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپنا طے شدہ خطاب مؤخر کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی نمائندوں نے پیپلزپارٹی کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اتحادی جماعت کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پیپلزپارٹی نے بھی حکومتی وضاحت کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں حکومت اور پیپلزپارٹی کی بجٹ کمیٹیوں کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں بجٹ سے متعلق اعتراضات اور ممکنہ تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی اپنی آئندہ سیاسی اور پارلیمانی حکمت عملی کا فیصلہ کرے گی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق حکومت اس معاملے کو اتحادی تعاون کے تناظر میں دیکھ رہی ہے اور بجٹ منظوری کے مرحلے میں پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی بجٹ سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث قومی اسمبلی میں ہونے والا اپنا خطاب مؤخر کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کی بجٹ ٹیم نے وفاقی بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں انہیں بتایا گیا کہ موجودہ بجٹ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ شیئر کیے گئے بجٹ مسودے میں نمایاں فرق موجود ہے۔

بریفنگ کے دوران پیپلزپارٹی کی بجٹ ٹیم نے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کئی اہم معاملات پر پارٹی کے ساتھ ہونے والی مشاورت کے نتائج بجٹ میں نظر نہیں آ رہے۔ ذرائع کے مطابق بریفنگ کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے فیصلہ کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے وضاحت موصول ہونے تک قومی اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال نہیں کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری حکومتی وضاحت اور تحفظات کے ازالے کے حوالے سے پیشرفت سامنے آنے کے بعد ہی ایوان میں خطاب کریں گے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اس وقت بجٹ کے حوالے سے حکومتی جواب کا انتظار کر رہی ہے اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلزپارٹی کی بجٹ کمیٹیوں کے درمیان جلد ایک اہم ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں بجٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات، اتحادی جماعت کے مطالبات اور ممکنہ حل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ کی منظوری کے اہم مرحلے میں اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کے لیے سرگرم ہے تاکہ حکومتی اتحاد میں کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب کے بجٹ پر اعتراض کرتے ہوئے آج پنجاب اسمبلی میں ایک اہم اجلاس بلایا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026 میں نان فائلرز کے لیے کیا بُری خبر ہے؟

پیپلز پارٹی کے رہنما علی گیلانی کا کہنا ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے وعدے پر عمل نہیں کیا اور کسانوں کے نقصانات کا بھی مناسب ازالہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کا زیادہ تر پیسہ لاہور کے لیے رکھا گیا ہے، جبکہ پنجاب کے دوسرے اضلاع کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

علی گیلانی کے مطابق ’ستھرا پنجاب‘ منصوبہ شہروں میں تو کچھ بہتر نظر آتا ہے، لیکن دیہات میں اب بھی صفائی کے مسائل اور گندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp