وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران ملک کے اندر صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بحران کے باوجود ملک میں کہیں بھی مار دھاڑ دیکھنے میں آئی اور نہ ہی پیٹرول پمپس یا دیگر مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں لگیں، جبکہ کشیدگی کے اس دور میں پاکستان میں کسی بھی چیز کی شارٹیج (کمی) نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ 27-2026 میں عوام کے لیے کیا کچھ اچھا رہا؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم سب کو دعا کرنی چاہیے کہ خطے کی صورتحال پہلے کی طرح معمول پر آجائے، کیونکہ علاقائی صورتحال جتنی جلدی بہتر ہوگی، ملک میں مہنگائی اتنی ہی تیزی سے نیچے آنا شروع ہوگی۔
اقتصادی اہداف اور مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ہمارا تخمینہ تھا کہ ملکی معیشت 3.75 سے 4.75 فیصد کے قریب گرو (ترقی) کرے گی، جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا اندازہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں تھوڑا وقت لگے گا، تاہم عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اگر مسلسل کم ہوتی رہیں تو یہ جلد ہی پہلے کی سطح پر واپس آجائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیرِ پیٹرولیم اس معاملے پر بالکل واضح ہیں کہ جیسے ہی عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوں گی، اس کا پورا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026 میں نان فائلرز کے لیے کیا بُری خبر ہے؟
ٹیکسوں اور ریونیو کے نظام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے وضاحت کی کہ یہ لیوی خطے میں شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی نافذ تھی، اور پیٹرولیم لیوی کے سوا بھی یقیناً ایف بی آر کا مقررہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران سیمنٹ سیکٹر میں ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ متعارف کروانے سے پچھلے سال اضافی ریونیو حاصل ہوا تھا، اور اب حکومت اس ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ کے دائرہ کار کو دیگر شعبوں (سیکٹرز) میں بھی شروع کرنے جا رہی ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔
نئے ٹیکسوں کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کوئی بھی نیا ٹیکس لگایا گیا ہوتا تو وہ یقیناً بجٹ یا فنانس بل کا حصہ ہوتا اور سب کے سامنے آجاتا۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 27-2026: پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے مستحق طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی بھی دی جا رہی ہے تاکہ کمزور طبقے پر معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی جی ڈی پی کا 7 فیصد لائیو اسٹاک اور ڈیری فارمنگ سے وابستہ ہے، اور چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کے لیے زرخیزی اسکیم کے تحت 300 ارب روپے دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے بلوچستان کو ٹیوب ویلز کی تنصیب کے لیے 50 ارب روپے فراہم کیے تھے، جبکہ جدید زراعت کو فروغ دینے کے لیے ٹریکٹر اور ہارویسٹر منگوانے پر ایڈیشنل کسٹمز ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مکمل طور پر صفر کر دیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے کسانوں کی زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومتوں نے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا، اس لیے اب جہاں حکومت کو اپنے ذمے کے ضروری کام کرنا ہوں گے وہیں ہمیں اپنے روایتی طریقے بھی بدلنا ہوں گے، کیونکہ حکومت چھوٹے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026: کس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد مستفید ہوں گے؟
حکومتی اخراجات اور صوبائی معاملات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال حکومتی اخراجات میں اضافے کو 1.9 فیصد تک روکا گیا تھا، تاہم اس وقت 2 صوبوں میں اندرونی خلفشار کی صورتحال ہے جس کو حل کرنا ناگزیر ہے اور اسی موجودہ صورتحال کے باعث حکومتی اخراجات میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے وفاقی اداروں کے حوالے سے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلٹی کارپوریشنز کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کو اربوں روپے کی سبسڈیز دی جا رہی تھیں، اور اس بار حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں کو پرائیویٹائز (نجکاری) کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر گفتگو کرتے ہوئے خاص طو پر سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے حوالے سے سندھ حکومت کے کام واقعی قابلِ تعریف ہیں۔














