پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کی روشن مثال ہے، بھارتی سکھ یاتری

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور میں تاریخی گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں گرو ارجن دیو جی کے ’جوڑ میلے‘ کی مرکزی تقریب اختتام پذیر ہوئی جہاں پاکستان اور بھارت سے آئے سکھ یاتریوں نے پاکستان کو مذہبی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی روشن مثال قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: گرو ارجن دیو جی کے 420ویں یوم شہادت کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

یہ تقریب ایویکوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں، مذہبی رہنماؤں اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ اس موقعے پر سکھوں کے 5ویں گرو، گرو ارجن دیو جی کی 420ویں برسی منائی گئی۔

’پاکستان تمام مذاہب کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے‘

چیئرمین ایویکوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ قمر الزمان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان تمام مذاہب کے مقدس مقامات کے تحفظ، بحالی اور دیکھ بھال کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرو ارجن دیو جی کی تعلیمات انسانیت، رواداری اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں جو عالمی امن کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان آنے والے یاتری اپنے ساتھ اچھے تاثرات اور مثبت پیغام لے کر جاتے ہیں۔

بھارتی جتھہ لیڈر کی پاکستان کی مہمان نوازی کی تعریف

بھارتی جتھہ لیڈر سر دار بھوپندر سنگھ نے یاتریوں کے شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی خوبصورت یادیں لے کر واپس جائیں گے۔

مزید پڑھیے: مذہبی تقریبات میں شرکت، پاکستان نے 737 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے

انہوں نے گوردواروں کی بہتر دیکھ بھال، رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کو سراہا اور حکومت پاکستان و ای ٹی پی بی کا شکریہ ادا کیا۔

جامع انتظامات اور سہولیات

ناصر مشتاق نے کہا کہ سکھ مذہب کی ابتدا اسی سرزمین سے ہوئی ہے جو آج پاکستان ہے، اور پاکستان ہمیشہ سکھ یاتریوں کو ان کے مقدس مقامات تک رسائی دیتا آیا ہے۔

یاتریوں کے لیے میڈیکل کیمپس، ایمبولینس سروس اور ہنگامی طبی سہولیات سمیت تمام انتظامات کیے گئے تاکہ ان کا سفر پرامن اور محفوظ رہے۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے ای ٹی پی بی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سکھ برادری کے لیے ہمیشہ کھلا دل رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 17 گوردواروں کی بحالی اور ترقیاتی کام جاری ہیں۔

سکھ یاتریوں نے مجموعی طور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مذہبی مقامات پہلے سے زیادہ محفوظ، خوبصورت اور پرامن ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’دل کرتا ہے اپنا امریکی پاسپورٹ پھاڑ کر پاکستان میں ہی رہ جاؤں‘، سکھ یاتری کا پاکستانیوں سے محبت کا اعتراف

بھارتی سکھ یاتری 10 جون کو پاکستان آئے تھے اور اپنا 10 روزہ مذہبی سفر مکمل کرنے کے بعد 19 جون 2026 کو واپس بھارت روانہ ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp