آزاد کشمیر کے عوام نے ترقی کو ووٹ دیا، یہ الیکشن مریم نواز کی کارکردگی پر ہوئے : عظمیٰ بخاری

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی سے متاثر ہیں اور انتخابات میں عوام نے ترقی کے حق میں فیصلہ دیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ گزشتہ روز کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ آزاد کشمیر میں پنجاب جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں خواتین کا ٹرن آؤٹ بہت اچھا رہا اور یہ الیکشن مریم نواز کی پنجاب میں کارکردگی پر ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کے عوام بھی پنجاب طرز کی ترقی اور سہولیات کے خواہاں ہیں، عظمیٰ بخاری

انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سندھ میں گزشتہ 18 سال سے حکومت میں ہیں، ان کے پاس آزاد کشمیر کے عوام کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ اگر وہ عوام کو یہ نہیں بتا سکتے کہ 18 سال میں انہوں نے کیا کیا، تو یہ ان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خدمت اور ترقی پر یقین رکھتی ہے، جبکہ کشمیر کے عوام نے بھی ترقی کو ووٹ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں کسی شہری نے یہ نہیں کہا کہ اس نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قمر زمان کائرہ کے حلقے میں پیپلز پارٹی کو 457 ووٹ ملے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں ووٹ تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی میں کچھ ایسے مسترد شدہ سیاست دان موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ ملک میں ہر وقت فساد، لڑائی اور جھگڑے کی کیفیت برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں قابل لوگوں کی بات نہیں سنی جاتی اور ان کی آواز بلاول بھٹو تک بھی نہیں پہنچتی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 52 شہروں میں ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری، عظمیٰ بخاری

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی عوام تک پہنچانے کے لیے اشتہاروں کا سہارا لینا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگ جب بھی پنجاب آتے ہیں تو وہ پنجاب کی ترقی سے متاثر ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی نے فوری طور پر شور مچانا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ لٹ گئے، برباد ہو گئے اور انتخابات چوری ہو گئے۔

عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے انتخابی دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک رکن اسمبلی کو گولی لگنے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم نہ اس حوالے سے کوئی پولیس رپورٹ موجود ہے اور نہ ہی کوئی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی۔ بعد میں خود پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ گولی نہیں لگی بلکہ پتھراؤ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف برینڈ ہیں، اگلے الیکشن میں ن لیگ کلین سویپ کرے گی،عظمیٰ بخاری

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی واضح ہدایت تھی کہ پنجاب سے جانے والا کوئی بھی رکن اسمبلی یا رکن قومی اسمبلی پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں جائے گا، تمام ارکان صرف پولنگ کیمپوں تک محدود رہے۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی مبینہ طور پر اپنے مسلح گارڈز کے ساتھ متعدد پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہوئے، جس کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام پنجاب میں ‘اپنی چھت، اپنا گھر’ منصوبہ، گرین بسیں، ستھرا پنجاب، ہونہار اسکالرشپ اور دیگر ترقیاتی منصوبے دیکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ میں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے ووٹر پنجاب جیسی ترقی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے متعدد حلقوں میں ہزاروں ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ اگر دھاندلی کرنی ہوتی تو صرف چند سو یا چند ہزار ووٹوں سے نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ فرق رکھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بڑے مارجن سے کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آسیان ممالک کے وفد کی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے ملاقات، واہگہ بارڈر اور شالیمار باغ کا بھی دورہ

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں 11 حلقوں سے 25 شکایات درج کرائیں، جن میں زیادہ تر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی یا معمولی نوعیت کے الزامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں حقیقی بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہوں، وہاں الیکشن کمیشن کارروائی کرتا ہے، جیسا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں مخصوص پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی گئی تھی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی 2024 کے انتخابات کو ‘فارم 47’ کا الیکشن قرار دیتی ہے تو پھر سندھ حکومت، بلوچستان حکومت اور انہی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے اپنے نمائندوں کی حیثیت بھی واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ کے انتخابات میں میڈیا کو آزادانہ رسائی دی جائے تو اصل صورتحال سب کے سامنے آ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) فخر سے کہتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کو پنجاب جیسا ترقی یافتہ بنانا چاہتی ہے، کیونکہ اس سے وہاں کے عوام کو بہتر سڑکیں، صاف پانی، جدید ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات میسر آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ ‘ہم کشمیر کو کشمیر بنائیں گے’ دراصل سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، کیونکہ وہ سندھ کو بطور کامیاب طرز حکمرانی پیش نہیں کر سکتے۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیاسی تلخی صرف ایک طرف سے ختم نہیں ہو سکتی، اگر قیادت کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی جائے گی تو اس کا جواب بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض قومی سیاسی معاملات پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت مناسب وقت پر اپنا مؤقف دے گی، جبکہ وفاقی امور پر تبصرہ کرنا متعلقہ وفاقی وزرا کا اختیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp