فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی بلوچستان میں ایمبولینسز اور ادویات چھیننے کی کارروائیاں، صوبے میں صحت کا نظام متاثر

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایمبولینسز، ادویات سے لدی گاڑیاں اور طبی سامان چھیننے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں نے پہلے ہی محدود طبی سہولیات کے حامل صوبے میں عام بلوچ عوام، بالخصوص دور دراز علاقوں کے مکینوں کے لیے علاج و معالجے کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات اور حکام کے مطابق فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگرد عناصر بلوچستان میں عوامی و نجی ملکیت کی ایمبولینسز اور ادویات سے لدی گاڑیاں چھین کر نہ صرف ہنگامی طبی امداد کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ عام بلوچ آبادی کو صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم کر رہے ہیں۔ حکام ان کارروائیوں کو عام بلوچ عوام کے خلاف ’ہیلتھ جینوسائیڈ‘ قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

حکام کے مطابق بلوچستان پہلے ہی اسپتالوں، کلینکس، طبی مراکز، پیرامیڈیکل عملے اور ایمبولینسوں کی کمی کا شکار ہے۔ صوبے کے وسیع جغرافیائی پھیلاؤ کے باعث دور دراز علاقوں میں کسی صحت مرکز تک پہنچنے کا اوسط فاصلہ تقریباً 32 کلومیٹر ہے، جس کی وجہ سے ایمبولینسز ہزاروں افراد کے لیے زندگی بچانے کا واحد ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 11 اگست 2025 کو مستونگ کے علاقے گورگینہ سے ایک ایمبولینس چھینی گئی۔ 21 اگست 2025 کو کلی میر خان، خالق آباد، قلات سے محکمہ صحت کی ٹویوٹا ہائی ایس سنگل کیبن ایمبولینس بھی دہشتگردوں کے قبضے میں چلی گئی۔

اسی طرح 31 جنوری 2026 کو ڈی ایچ کیو مستونگ کی سفید رنگ کی ہائی ایس ایمبولینس، 19 مارچ 2026 کو شیخ واصل پانی پائی سے ایک ایمبولینس اور اسی روز کرداپ، مستونگ سے پولیس ایمبولینس چھین لی گئی۔ 7 اپریل 2026 کو چپر گھاٹ، قلات کے قریب ایک نجی ایمبولینس بھی مبینہ طور پر دہشتگردوں نے اپنے قبضے میں لے لی۔

رپورٹ کے مطابق 4 مئی 2026 کو گدان ہوٹل، قلات کے علاقے سے ادویات سے بھری ایک نجی سوزوکی پک اپ، 26 مئی 2026 کو ڈی ایچ کیو خاران کی ایمبولینس، 29 مئی 2026 کو مغل کنڈ، خالق آباد سے بی ایچ یو خالق آباد کی ایمبولینس اور 30 مئی 2026 کو کھڈکوچہ، مستونگ کے گرو علاقے سے ادویات پر مشتمل ایک کنٹینر بھی چھین لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:انسانی حقوق یا پروپیگنڈا؟ بھارت اور بی ایل اے کے متضاد بیانیوں کا پول کُھل گیا

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد اس سے قبل مزدوروں، ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے افراد اور غیر ملکی ماہرین کو نشانہ بناتے رہے ہیں، تاہم اب ان کی کارروائیوں کا رخ صحت کے شعبے کی جانب بھی ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان ان غریب اور پسماندہ بلوچ خاندانوں کو پہنچ رہا ہے جو علاج اور ہنگامی طبی امداد کے لیے انہی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف پسماندہ علاقوں سے 9 ایمبولینسوں اور ادویات سے لدے کنٹینر و گاڑیوں کا چھین لیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف عام بلوچ عوام کی فلاح نہیں بلکہ خطے میں خوف، عدم استحکام اور مشکلات پیدا کرنا ہے۔ حکام کے مطابق عام شہریوں کی جان بچانے کے لیے مختص طبی وسائل کو نشانہ بنانا ایک سنگین عمل ہے جس کے اثرات براہِ راست بلوچستان کے عام لوگوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ