ملکی بقا کی خاطر پنجاب نے وفاق کو 546ارب کی خطیر گرانٹ دی ہے، مریم اورنگزیب

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاق کو مضبوط کرنے اور ملکی بقا کی خاطر پنجاب نے 546 ارب روپے کی خطیر فیڈرل گرانٹ دے کر ایک بڑی قربانی دی ہے۔

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے صوبائی وزرا کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے مالی سال 26-2025 اور 27-2026 کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 27-2026: پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کا کل مالیاتی حجم 5935 ارب روپے ہے، جس میں سے سال 26-2025 کا کرنٹ بجٹ 1096 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں 32 فیصد کم ہے۔

 حکام کے مطابق بجٹ میں یہ نمایاں کمی صوبے میں کی جانے والی ‘اسمارٹ سائزنگ’، ‘رائٹ سائزنگ’ اور محکموں کی تنظیمِ نو کے باعث ممکن ہوئی ہے، جس کے ذریعے ہزاروں اضافی اور غیر فعال اسکیموں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

 پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کیے جانے والے اس اقدام کے تحت گزشتہ ڈھائی سالوں میں 1990 کی دہائی سے التوا کا شکار 12786 غیر ضروری اسکیموں کو بند کر کے قومی خزانے کو ریکارڈ 3857 بلین روپے کا تاریخی ریلیف اور بچت فراہم کی گئی ہے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روک کر ترقیاتی فنڈز کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جاسکے۔

سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے واضح کیا کہ وفاق کو مضبوط کرنے اور ملکی بقا کی خاطر پنجاب نے 546 ارب روپے کی خطیر فیڈرل گرانٹ دے کر ایک بڑی قربانی دی ہے، جس کے بعد صوبے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام  752 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب بجٹ 25-2024 : مریم صاحبہ! آپ نے ہمیں پتھر کے دور میں پہنچا دیا

انہوں نے خصوصی طور پر بتایا کہ اس سخت مانیٹرنگ اور اسمارٹ سائزنگ کے باوجود وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سب سے ترجیحی شعبوں، بالخصوص سوشل سیکٹر، تعلیم اور صحت کے بجٹ پر کوئی کٹ نہیں لگایا گیا اور نہ ہی فنڈز میں کسی قسم کی کمی کی گئی ہے تاکہ ایک روشن اور صحت مند پنجاب کی بنیاد رکھی جا سکے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق کل ترقیاتی بجٹ کا 44 فیصد حصہ یعنی 333 ارب روپے تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور واٹر اینڈ سینیٹیشن کے لیے ہی مختص ہے، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں ترقی کے اصول کے تحت 66 شہروں میں ‘پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام’ جاری ہے اور جنوبی پنجاب کے لیے بجٹ میں 28 سے 30 فیصد کا علٰحدہ حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں وفاقی سطح پر ملنے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی دانشمندانہ قیادت، بہترین سفارتکاری اور قومی عزم کے ذریعے نہ صرف عالمی امن کے فروغ اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ہر محاذ پر پاکستان کو کامیابیاں دلوا کر دنیا بھر میں ملک کا وقار بلند کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی صورتحال اور بدترین علاقائی و سیلابی کرائسز کے باوجود پنجاب حکومت نے بروقت اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی سے بہترین کارکردگی دکھائی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن بجٹ کاپیاں نہ پھاڑ سکی

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلاب زدگان کے لیے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کاموں کو تیزی سے فیلڈ میں لیڈ کیا گیا اور متاثرین کو صوبے کے اپنے فنانشل ریسورسز سے مکمل شفافیت کے ساتھ معاوضہ پہنچا کر ایک ذمہ دار وعوام دوست حکومت کی عملی مثال قائم کی گئی۔

بریفنگ میں صوبے کے بڑے عوامی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ ‘ای-موبلٹی پروگرام’ کے تحت پنجاب کے مختلف شہروں کے لیے 2000 الیکٹرک بسیں لائی جارہی ہیں جن میں سے 600 بسیں پہنچ چکی ہیں۔

 ‘اپنا گھر پروگرام’ کے تحت اب تک لاکھوں مکانات مکمل ہوچکے ہیں اور سالانہ ایک لاکھ گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گوجرانوالہ میٹر اور فیصلہ آباد میٹر کے لیے بالترتیب 62 ارب اور 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری رکھی گئی ہے۔

 زراعت کے شعبے میں کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیے گئے جن کی ریکوری 99 فیصد رہی ہے، اور اس کے ساتھ ہی لائیو اسٹاک کارڈ اور موبائل ڈسپنسریز کا آغاز بھی کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں پہلی بار 5500 ایکڑ پر جدید فارمنگ مہم کا آغاز جولائی سے ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بجٹ پر سیاسی جماعتیں آمنے سامنے، کس نے کیا کہا؟

صوبائی وزرا نے میڈیا کو بتایا کہ اس بہترین حکمت عملی کی بدولت گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پنجاب کا اپنا مقامی ریونیو 426 ارب روپے سے بڑھ کر 820 ارب روپے کے ہدف تک پہنچ چکا ہے، جو پنجاب کی معاشی خود انحصاری کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔

وزرا کے مطابق یہ کامیابی کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ یا ریٹ بڑھائے بغیر محض ٹیکس نیٹ اور بیس کو وسیع کر کے حاصل کی گئی ہے۔ حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے کے لیے صوبے کے تمام ٹیکسوں کو ‘ایک چھت تلے’ لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو الگ الگ محکموں سے رابطہ نہ کرنا پڑے۔

 اس کے علاوہ صوبائی بجٹ میں نوجوانوں کے لیے 100 ارب روپے کا اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام، اسموگ کی روک تھام کے لیے 10 ہاٹ اسپاٹس کی سائنسی نگرانی، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 2000 سے زائد ہیلتھ سینٹرز کی آؤٹ سورسنگ جیسے انقلابی اقدامات بھی اس بجٹ کا حصہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی بھرتیاں کیس: سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کو نوٹس جاری کر دیا

ٹرمپ نے ایران کے 300 ارب ڈالر فنڈ تک رسائی اچھے رویے سے مشروط کر دی

سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ، یکم جولائی 2026 سے اطلاق ہوگا

ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

گھانا نے پنالٹی کے بغیر آخری لمحات میں پاناما کو شکست دے دی

ویڈیو

پاک سفارتکاری کی کامیابی، ایران امریکا امن معاہدے پر پشاور کے شہریوں کا خیرمقدم

اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی خصوصی ’رن فار فن ریس‘، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

وی ایکسکلوسیو: پاکستان کو معاشی چیلنج درپیش مگر حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں، انجینیئر خرم دستگیر

کالم / تجزیہ

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

ویڈنگ ڈیٹیکٹیو یا خانگی جاسوسوں کے اچھوتے کام کا احوال

عین عشق کا المیہ