چین نے اپنی تیزی سے پھیلتی ہوئی روبوٹکس انڈسٹری کو کنٹرول کرنے اور محفوظ بنانے کے لیے ایک انوکھا اور پہلا قومی ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کروایا ہے، جس کے تحت ملک میں تیار ہونے والے ہر انسان نما روبوٹ کو ایک مخصوص ڈیجیٹل شناختی کارڈ نمبر جاری کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد روبوٹ کی تیاری سے لے کر اس کے استعمال، مرمت اور کباڑ میں جانے تک کے تمام مراحل کی مکمل نگرانی کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مُکّا مار کے دیواریں توڑنے والا انسان بردار روبوٹ، چین کی نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا
چینی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیرِ نگرانی شروع کیے جانے والے اس پروگرام کو باقاعدہ سروس پلیٹ فارم کا نام دیا گیا ہے، جو ہر روبوٹ کو پچیس ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد کوڈ فراہم کرتا ہے۔
یہ ڈیجیٹل کارڈ انسان نما روبوٹ کے لیے ایک پاسپورٹ کی طرح کام کرے گا جس میں روبوٹ بنانے والے ملک، کمپنی کا نام، ماڈل اور اس کا مخصوص نمبر درج ہوگا، جبکہ اس کے ذریعے روبوٹ کی کارکردگی، بیٹری کی صورتحال، پرزوں کی ٹوٹ پھوٹ اور مصنوعی ذہانت کی تربیت کی تاریخ کا لائیو ریکارڈ بھی رکھا جاسکے گا۔

ماہرین کے مطابق اس سخت قانون کی سب سے اہم وجہ مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کے درمیان یکساں معیار کا نہ ہونا اور کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرنا ہے۔
اگر کوئی روبوٹ فیکٹری، اسپتال یا عوامی جگہ پر کسی قسم کا نقصان کرتا ہے یا ڈیٹا چوری کا باعث بنتا ہے، تو اس شناختی نمبر کے ذریعے فوری معلوم کیا جا سکے گا کہ خرابی سافٹ ویئر میں تھی، ہارڈ ویئر بنانے والی کمپنی کی تھی یا اسے چلانے والے آپریٹر کی غلطی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں ٹریفک کنٹرول کے لیے روبوٹ اہلکار تعینات، امریکا میں بھی اہم قانون سازی ہوگئی
چین نے اس کے ساتھ ہی مارکیٹ تک رسائی کے لیے ‘شناختی کارڈ نہیں تو مارکیٹ نہیں’ کی سخت پالیسی بھی نافذ کردی ہے، جس کے تحت بغیر رجسٹریشن کے کوئی بھی روبوٹ فروخت نہیں کیا جاسکے گا، اور اب تک 100 سے زائد چینی کمپنیاں اس نظام کا حصہ بن کر 28 ہزار سے زائد روبوٹس کو ڈیجیٹل شناختی کارڈ جاری کرچکی ہیں۔














