آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں انسانوں کی برتری اب بھی برقرار ہے، جس کا عملی ثبوت ’فگر اے آئی‘ کے زیرِ اہتمام ہونے والے ایک دلچسپ مقابلے میں سامنے آیا ہے۔ اس 10 گھنٹے طویل ’انسان بمقابلہ مشین‘ چیلنج میں کمپنی کے ایک انٹرن اور جدید ترین روبوٹس کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل لایا گیا۔ مقابلے کا مقصد پارسلز کی چھانٹی کرنا، ان کے بارکوڈ اسکین کرنا اور انہیں درست طریقے سے کنویئر بیلٹ پر رکھنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مُکّا مار کے دیواریں توڑنے والا انسان بردار روبوٹ، چین کی نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا
اس مقابلے کے دوران کام کے حالات دونوں کے لیے بالکل مختلف رکھے گئے تھے تاکہ حقیقت پسندانہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انسانی انٹرن نے کام کے دوران تھکاوٹ دور کرنے اور دوپہر کے کھانے کے لیے وقفے لیے، جبکہ دوسری جانب روبوٹس بغیر کسی وقفے کے مسلسل شفٹوں میں کام کرتے رہے۔ ایک گھنٹے بعد ایک روبوٹ کی جگہ دوسرا روبوٹ لے لیتا تھا تاکہ مشینوں کی کارکردگی اور رفتار میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔
مشینوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی بڑی تعداد یہ توقع کر رہی تھی کہ اے آئی یہ مقابلہ آسانی سے جیت لے گی۔ تاہم جب حتمی نتائج سامنے آئے تو سب حیران رہ گئے کیونکہ انسانی انٹرن نے اپنی پھرتی اور مہارت سے روبوٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انسانی انٹرن نے مجموعی طور پر 12 ہزار 924 پارسلز پیک کیے جبکہ روبوٹس کی ٹیم 12 ہزار 732 پارسلز تک ہی محدود رہی۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں ریچھوں کے حملوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد مانسٹر وولف روبوٹ کی مانگ میں تیزی
اگرچہ یہ انسانی فتح بہت ہی معمولی فرق سے حاصل ہوئی تھی لیکن اس نے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق انسان اور مشین کی اوسط رفتار میں محض 0.04 سیکنڈ کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔ انسانی انٹرن نے ایک پارسل پیک کرنے کے لیے 2.79 سیکنڈز لیے جبکہ روبوٹس کو یہی کام کرنے میں 2.83 سیکنڈز لگے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال انسان باریک بینی والے کاموں میں مشینوں سے تھوڑا آگے ہے۔
’فگر اے آئی‘ کے سی ای او بریٹ ایڈکاک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس غیر متوقع نتیجے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے فاتح انٹرن کو مبارکباد دیتے ہوئے مذاقاً کہا کہ اس سخت محنت کے بعد نوجوان کا بازو تھکاوٹ سے تقریباً ٹوٹ چکا ہے۔ ان کا یہ بیان اس جسمانی مشقت کی طرف اشارہ تھا جو ایک انسان کو مشینوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کرنی پڑی۔
یہ بھی پڑھیں: روبوٹس کے لیے اجرت طے کرنے کی تجویز، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟
بریٹ ایڈکاک نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ایک بڑی اور فکر انگیز پیشگوئی بھی کر دی ہے کہ یہ شاید آخری بار ہے جب کسی انسان نے مشین کو شکست دی ہے۔ ان کا اشارہ اے آئی کی اس رفتار کی طرف تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ واضح رہے کہ کمپنی نے گزشتہ برس ہی اپنے روبوٹس کے لیے ’ہیلکس‘ نامی جدید ترین اے آئی سسٹم متعارف کروایا ہے جو مستقبل میں مشینوں کو ناقابلِ شکست بنا سکتا ہے۔












