امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے 2 ماہ سے زائد عرصے بعد ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے لیے بحری آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کردی ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر بحال ہوگئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ آج امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری نقل و حرکت پر عائد محاصرہ ختم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز جمعے سے مکمل کھل جائےگی، کوئی ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
سینٹکام کے مطابق امریکی جنگی بحری جہاز علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایرانی بندرگاہوں سے امریکی بحری محاصرہ اس وقت ختم کیا گیا جب امریکا اور ایران نے تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
Today, U.S. forces lifted the blockade on all maritime traffic entering and exiting Iranian ports and coastal areas, in accordance with the President's direction. American forces are not impeding the transit of vessels to or from Iranian ports. All U.S. military blockade…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 18, 2026
اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ثالث پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکام کی جانب سے امریکا ایران معاہدے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت شروع ہونے والے امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن عمل اسرائیل کے بھی مفاد میں ہے، جبکہ بیروت میں ایسے حملے جن میں شہری ہلاک ہوں، قابل قبول نہیں ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے بعض ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زمینی حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے اور اپنے واحد طاقتور اتحادی امریکا پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: علامتی تقاریب ضرورت نہیں رہی، عملی نتائج اہم تھے، پاکستان نے بحران کو پائیدار امن میں بدل دیا، سفارتی ذرائع
امریکی نائب صدر کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت مثبت نتائج دے رہی ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ، توانائی کی قیمتوں میں کمی اور ایران کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کی ابتدائی علامات سامنے آ رہی ہیں۔
جے ڈی وینس نے بتایا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے 12.5 ملین بیرل تیل گزرا، جو تنازع کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ رہی ہیں جبکہ امریکا میں پٹرول کی قیمت بھی 4 ڈالر فی گیلن سے نیچے آ گئی ہے۔














