امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 60 روزہ مذاکراتی عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکیں۔
امریکی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر نافذ بحری ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے تحت جہازوں کی ایران آمد و رفت محدود کر دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کروا کر پاکستان نے دنیا کو کتنے بڑے نقصان سے بچایا ہے؟
البتہ امریکی جنگی بحری جہاز خطے میں موجود رہیں گے اور صورتحال کی نگرانی جاری رکھیں گے۔
بحری نگرانی کے اداروں کے مطابق تین سعودی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے روانہ ہوئے، جبکہ فرانسیسی مائع قدرتی گیس بردار جہاز ’مریح‘ جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے سے گزرنے والا اپنی نوعیت کا پہلا جہاز بن گیا۔
دوسری جانب معاہدے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ مذاکرات اور دستخطی تقریب کے انعقاد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
The US military has lifted its #blockade of maritime traffic entering and exiting Iranian ports and coastal areas, US Central Command said in a post on X on Thursday, adding that US naval ships would remain in the general area. #US_naval_ships… pic.twitter.com/C50r5Ghiuu
— Gulf Times (@GulfTimes_QATAR) June 18, 2026
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں ممالک کے وفود طے شدہ شیڈول کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے قوم کے نام اپنے تحریری پیغام میں بتایا کہ انہوں نے بعض تحفظات کے باوجود معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
ان کے بقول صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے قومی مفادات اور ’مزاحمتی محاذ‘ کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں متوقع، جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر
خامنہ ای نے کہا کہ صدر پزشکیان نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اس امر کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے غیر معمولی مطالبات سامنے آئے تو ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ مستقبل میں امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا مطلب ہرگز دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد امریکی فوج نے بحری ناکہ بندی نافذ کی تھی، تاہم اب کم از کم 12 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
Iranian President @drpezeshkian has joined U.S. President @realDonaldTrump in signing the Memorandum of Understanding (MoU) agreed upon between #Iran and the #UnitedStates, while the Prime Minister of #Pakistan 🇵🇰 @CMShehbaz has signed the agreement as a mediator. A big day! pic.twitter.com/HBe7miOOPz
— Nuaman Ishfaq Mughal (@NuamanIshfaqM) June 18, 2026
شپنگ جریدے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے۔
وینس نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے جمعے کے بجائے ہفتے کے اختتام پر سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے منصوبے میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیا۔
ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کی سوئٹزرلینڈ روانگی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: اسرائیل بے چین، جے ڈی وینس کی احترام کرنے کی تلقین
اگرچہ معاہدے سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم تہران میں بعض حلقے اس کے مستقبل کے بارے میں محتاط ہیں۔
تہران سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات مینا کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں کہ یہ معاہدہ دیرپا ثابت ہوگا اور امکان ہے کہ 60 دن بعد کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔
معاہدے کے متن کے مطابق امریکا نے ایران کی معیشت کو متاثر کرنے والی تیل کی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

مزید برآں ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی سمجھوتہ طے پانے کی صورت میں امریکا خطے کے ممالک کے تعاون سے قائم 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں سہولت فراہم کرے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی افزودگی کی سطح کم کرے گا اور یہ عمل ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی نگرانی میں انجام پائے گا۔
تاہم اسرائیل کی دیرینہ خواہش کے باوجود ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاہدے میں کوئی ذکر شامل نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 8 یادداشتوں پر دستخط
ٹرمپ کے اس فیصلے پر ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ریپبلکن سینیٹر بل کیسڈی نے اسے کئی دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے ایران کے جوہری عزائم پر کوئی مؤثر قدغن نہیں لگی۔
اس تنقید کے جواب میں صدر ٹرمپ نے جی7 اجلاس کے موقع پر خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکا سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے معاہدے کو امریکا کی ناکامی قرار دیا، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت سے تعبیر کیا ہے۔














