امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن عمل کے مرکزی کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 3 ماہ سے جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے واشنگٹن کا ’چیف مذاکرات کار‘ مقرر کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اہم ترین ذمہ داری نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے بلکہ جے ڈی وینس کے اپنے کیریئر اور 2028 کے صدارتی انتخابات میں ان کی ممکنہ امیدواری کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں متوقع، جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بدھ کو ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کے اتحادیوں کی حمایت اور عالمی توانائی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ’آبنائے ہرمز‘ کا مستقبل جیسے پیچیدہ معاملات کو آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔
مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس کی تیاریاں اور ٹرمپ کا تبصرہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق جے ڈی وینس ابتدائی دور کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے والے تھے، تاہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر انہوں نے اپنی طے شدہ پرواز منسوخ کر دی ہے۔
اس کے باوجود امریکی وفد ’پہلے دستیاب موقع‘ پر روانگی کے لیے مکمل تیار ہے۔ امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے وینس کو اس امن معاہدے کا ’معمار‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حتمی معاہدہ سینیٹ کی منظوری کے لیے وہی پیش کریں گے۔
دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اہم معاملے پر روایتی انداز میں مزاحیہ تبصرہ کرتے ہوئے جے ڈی وینس پر ذمہ داری کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو گیا تو اس کا کریڈٹ میں خود لوں گا اور اگر ناکام ہوا تو میں جے ڈی (وینس) کو ذمہ دار ٹھہراؤں گا‘۔
جنگ کے بجائے سفارت کاری پر زور
جے ڈی وینس طویل عرصے سے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے کے مخالف رہے ہیں اور انہوں نے ان قدامت پسند حلقوں پر کڑی تنقید کی ہے جو ایران پر مسلسل حملوں کے حامی ہیں۔
مزید پڑھیں:برطانوی حکومت کی جے ڈی وینس پر سخت تنقید، ہنری نوواک کے قتل کو تارکینِ وطن سے جوڑنے پر ردعمل
ایک حالیہ انٹرویو میں نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کو فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ اگر ایرانی اپنا رویہ تبدیل کرتے ہیں تو ان کے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات میں انقلابی تبدیلی آئے گی اور خطے کے ممالک کے ایران کے ساتھ تعلقات بھی نئی شکل اختیار کریں گے‘۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کردار اور ٹرمپ کا امتحان
سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی تیزی سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران امن عمل میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نسبتاً پسِ منظر میں کیوں نظر آ رہے ہیں، جبکہ روایتی طور پر ایسے مذاکرات کی قیادت وزیر خارجہ ہی کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ جان بوجھ کر جے ڈی وینس کو مذاکرات کا مرکزی چہرہ بنا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں اپنی ٹیم کی صلاحیتوں کا حقیقی وقت میں امتحان لے سکیں اور وینس کو مستقبل کی قومی قیادت کے لیے تیار کیا جا سکے۔
نئی کتاب کی تشہیر بھی توجہ کا مرکز
سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جے ڈی وینس کی نئی کتاب، جس میں انہوں نے کیتھولک مذہب قبول کرنے کے اپنے سفر کا تذکرہ کیا ہے، ان دنوں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امن مذاکرات: ایران کے جواب نہ دینے پر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، امریکی میڈیا
ایک ٹی وی پروگرام میں جب ان سے ایران، امیگریشن اور شہری حقوق سے متعلق سخت سوالات کیے گئے تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’آئیے کتاب کی بات کرتے ہیں، میں یہاں کتابیں بیچنے آیا ہوں‘۔
واضح رہے کہ آئندہ 60 دنوں کا مذاکراتی عمل یہ طے کرے گا کہ آیا جے ڈی وینس ایک جامع اور پائیدار امن معاہدہ کرا کے ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک مضبوط صادرتی امیدوار بن پاتے ہیں یا یہ مشن ان کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔














