ایران معاہدے پر دستخط کی جلدی کیوں؟، سی این این صدر ٹرمپ کی ہنگامی سفارتی کوششوں کی اندرونی کہانی سامنے لے آیا

ہفتہ 20 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فرانس کے تاریخی محل ’ورسائی‘ میں رات گئے دستخط کر دیے۔

یہ معاہدہ اصل میں دو روز بعد سوئٹزرلینڈ میں ایک باقاعدہ تقریب کے دوران طے پانا تھا، مگر صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے کس قدر شدید دباؤ میں تھا۔

ورسائی میں اچانک دستخط اور پسِ پردہ ڈراما

سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کے لیے تیار تھے، جب انہیں اطلاع ملی کہ ایران کے ساتھ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘ کا متن مکمل ہو چکا ہے۔

اصل منصوبہ

اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن کے قریب ایک خصوصی تقریب کا انتظام کیا گیا تھا، جہاں نائب صدر جے ڈی وینس کو معاہدے پر دستخط کرنے اور آئندہ کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز کرنے جانا تھا۔

ٹرمپ کا فیصلہ

سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے کسی بھی ممکنہ تاخیر کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاہدے پر اسی رات دستخط کیے جائیں۔ فرانسیسی صدر میکرون نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے فوری انتظامات کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار

سی این این کے مطابق جب دونوں رہنما ورسائی کے مشہور ‘ہال آف مررز’ کا دورہ کر رہے تھے، اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور فرانسیسی حکام معاہدے کی طباعت کا انتظام کرنے میں مصروف تھے۔

رات گئے ٹرمپ نے ورسائی کے ایک تاریخی ہال میں معاہدے پر دستخط کیے اور وہاں موجود مہمانوں کو دستخط شدہ دستاویز دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ آسان نہیں تھا، میں آپ کو بتا سکتا ہوں‘۔ صدر میکرون نے انہیں مبارکباد دی اور معاہدے کی تصویر فوری طور پر ایرانی حکام کو ارسال کر دی گئی۔

معاہدہ شروع ہوتے ہی شدید دباؤ کا شکار

معاہدے کے فوراً بعد ہی اس کی پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اگلے دور کے مذاکرات اس وقت منسوخ ہو گئے جب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے شرکت سے انکار کر دیا۔

اگرچہ بعد میں جنگ بندی بحال ہو گئی، لیکن اس واقعے نے ظاہر کر دیا کہ یہ سفارتی پیش رفت انتہائی نازک بنیادوں پر قائم ہے۔

سی این این کے مطابق یہ 14 نکاتی معاہدہ دراصل ایک ابتدائی فریم ورک ہے جس کے تحت 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہونا ہے، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مزید تفصیلی اور قابلِ تصدیق وعدے حاصل کرنا ہے۔

سیاسی مخالفت اور کڑی تنقید

امریکی ٹیلی ویژن کے مطابق امریکا کے اندر اس معاہدے پر شدید سیاسی تنقید سامنے آ رہی ہے۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر وِکر نے کہا کہ ’معاہدے میں شامل 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کی تجویز سابق اوباما دور کے ایران معاہدے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی رعایت معلوم ہوتی ہے‘۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو بہت زیادہ فوائد دیتا ہے جبکہ امریکا کو اس کے بدلے انتہائی محدود یقین دہانیاں حاصل ہوئی ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایسی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کی میز پر صرف امریکی فوجی دباؤ کے باعث آیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہم مجبوری میں نہیں ملے، ایران مجبوری میں آیا ہے۔ وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ہم 60 دن کا عمل مکمل کریں گے اور انہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا‘۔

معاشی خدشات نے معاہدے کی راہ ہموار کی

سی این این کے مطابق انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق اس عجلت کے پیچھے ایک اہم محرک عالمی معیشت سے متعلق خدشات تھے۔

مہینوں سے جاری جنگ عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی پر بری طرح اثر انداز ہو رہی تھی۔ مشیروں نے وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا تھا کہ اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ وہ معیشت کے حوالے سے فکرمند تھے اور انہوں نے کہا کہ، ’میں معاشی تباہی نہیں دیکھنا چاہتا تھا‘۔

سی این این نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی نے اس مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

خفیہ معاہدے اور ’ثالث پاکستان ‘ کا کردار

سی این این کے مطابق ایران کے ساتھ یہ مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہے اور بارہا تعطل کا شکار ہوئے۔ کبھی ٹرمپ معاہدے کے قریب ہونے کا اعلان کرتے تو کبھی ایران کو مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکی دیتے۔

معاہدے پر اتفاق ہونے کے باوجود اس کا متن کئی روز تک خفیہ رکھا گیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق پاکستان سے ثالث کا کردار ادا کرنے والوں نے امریکی حکام کو بتایا تھا کہ ایران اپنی داخلی سیاسی وجوہات کی بنا پر اس کے فوری اعلان میں تاخیر چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط

بعد ازاں جب معاہدے کی تفصیلات سامنے آئیں تو امریکی حکام نے بعض ’جینٹلمین ایگریمنٹس‘ یا غیر رسمی سمجھوتوں کا بھی ذکر کیا، جو تحریری معاہدے کا حصہ نہیں ہیں لیکن فریقین کے درمیان اعتماد قائم رکھنے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جنگ سے نکلنے کی خواہش اور اندرونی شکوک و شبہات

سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندر کئی اعلیٰ حکام طویل عرصے سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی محفوظ راستہ تلاش کر رہے تھے، کیونکہ اس تنازع نے صدر ٹرمپ کی سیاسی ترجیحات، عالمی تقریبات اور آئندہ انتخابات کی حکمت عملی کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔

امریکی ٹیلی ویژن کے مطابق وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جنگ کے معاشی اثرات پر تشویش ظاہر کی تھی، جبکہ وزیر توانائی کرس رائٹ نے عالمی توانائی منڈیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

سیاسی مشیروں کا خیال تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو ریپبلکن پارٹی کو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں بڑا سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک داخلی ذریعے کے مطابق ’تقریباً سب اس بات پر متفق تھے کہ اگر جنگ جاری رہی تو صورتحال مزید خراب ہو گی‘۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران کے ارادوں پر شدید شکوک و شبہات بھی پائے جاتے تھے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ان شخصیات میں شامل تھے جو سمجھتے تھے کہ ایران اپنے وعدوں پر مکمل عمل نہیں کرے گا۔

مارکو روبیو، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بھی مختلف مراحل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ لیکن بالآخر صدر ٹرمپ کی ذاتی خواہش نے پالیسی کی سمت کا تعین کیا۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کے بقول ’ہم صرف یہ معاملہ جلد از جلد ختم کرنا چاہتے تھے‘۔

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور قطر کا کلیدی سفارتی کردار

سی این این کے مطابق معاہدے کے قریب پہنچنے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی زمینی صورتحال مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی۔

 8 جون کو ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اور ایرانی ڈرون کے درمیان تصادم نے حالات کو انتہائی کشیدہ کر دیا، جس کے بعد دونوں جانب سے جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔بعد ازاں بیروت کے نواحی علاقے پر اسرائیلی حملے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ تاریخی معاہدے میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ، ڈیل نہ ہوتی تو’آبنائے ہرمز‘ نہ کھلتی اورعالمی کساد بازاری کا سامنا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے اس اسرائیلی کارروائی کو مذاکراتی عمل کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا، جس پر رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ سخت لہجے میں فون پر گفتگو بھی کی۔

اس پورے منظرنامے میں قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کیا۔ قطری حکام نے تہران میں طویل اور کٹھن ملاقاتیں کیں اور امریکی مذاکرات کاروں کو مسلسل پیش رفت سے آگاہ رکھا۔

ایک مرحلے پر قطری ثالثوں نے مسلسل 17 گھنٹے تک طویل مذاکرات کیے تاکہ ممکنہ فوجی تصادم اور معاہدے کی ناکامی کو روکا جا سکے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے بعض مواقع پر اسرائیل کی جانب میزائل حملے کی تیاری بھی کر لی تھی، جسے سفارت کاری کے ذریعے ٹالا گیا۔

تاریخِ اعلان پر منفرد سفارتی فارمولا

امریکی ٹیلی ویژن نے مزید لکھا کہ مذاکرات کے دوران ایران نے ایک عجیب و غریب شرط رکھی کہ اس معاہدے کا سرکاری اعلان صدر ٹرمپ کی سالگرہ کے دن نہ کیا جائے۔

اس نفسیاتی اور سیاسی مسئلے کے حل کے لیے ثالثوں نے ایک منفرد سفارتی فارمولا پیش کیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ معاہدے کا باقاعدہ اعلان تہران کے وقت کے مطابق آدھی رات کے فوراً بعد کیا جائے گا، جو واشنگٹن کے وقت سے تقریباً ساڑھے 7 گھنٹے آگے تھا۔ اس طرح وقت کے فرق کو استعمال کرتے ہوئے دونوں فریق اپنی اپنی داخلی سیاسی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

مستقبل اب بھی غیر یقینی

سی این این کے مطابق اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت کو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں کی اہم ترین سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود متعدد بنیادی اور اہم معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا متن منظر عام پر آگیا

امریکی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ’یہ معاہدہ کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ محض ایک ابتدائی فریم ورک ہے، جس کے تحت جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، بین الاقوامی نگرانی کے نظام، علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون جیسے پیچیدہ امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔

آئندہ کے 60 دن اس بات کا حتمی فیصلہ کریں گے کہ آیا ورسائی میں رات گئے ہونے والی یہ تاریخی دستخطی تقریب مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام کی بنیاد بنے گی، یا یہ محض امریکا اور ایران کے پیچیدہ تعلقات کی ایک اور عارضی قسط ثابت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟