گلگت بلتستان اسمبلی کی مدت کا آغاز، نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نو منتخب ارکان نے آج اپنی رکنیت کا حلف اٹھالیا، جس کے ساتھ ہی 2026 کے عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی کی آئینی مدت کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق افتتاحی اجلاس صبح 9 بجے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا، جہاں انہوں نے اراکین سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: پیپلز پارٹی کی جانب سے امجد حسین ایڈووکیٹ وزیراعلیٰ نامزد

گلگت بلتستان اسمبلی میں حلف اٹھانے والے اراکین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 13، مسلم لیگ (ن) کے 9، استحکام پاکستان پارٹی کے 6، مجلس وحدت مسلمین کا ایک اور ایک آزاد رکن شامل ہے۔

اجلاس کے اگلے مرحلے میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا، جو اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ منتخب ہوں گے، جبکہ اسپیکر کے لیے بھی پیپلز پارٹی کے عمران ندیم پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے اجلاس آج سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گلگت کے 3 حلقوں کے نوٹیفکیشن عدالتی حکم کے باعث تاحال روکے گئے ہیں۔

دوسری جانب حکومت سازی کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے آئندہ وزیراعلیٰ کے لیے اپنے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کو باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ خطے کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے کیونکہ پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی نے گلگت ریجن سے تعلق رکھنے والے کسی رہنما کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔

امجد حسین ایڈووکیٹ نے حالیہ انتخابات میں حلقہ جی بی اے-1 گلگت سے کامیابی حاصل کی، جبکہ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 24 میں سے 21 نشستوں پر پیپلز پارٹی 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

پارٹی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ مخصوص نشستوں اور ٹیکنوکریٹ کوٹے کو شامل کرنے کے بعد اسے ایوان میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

حکومت سازی کے عمل کو مزید تقویت اس وقت ملی جب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

دونوں جماعتوں نے سیاسی استحکام، عوامی فلاح و بہبود اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ کا منصب پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہوگا، جبکہ گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے مسلم لیگ (ن) کو دیے جائیں گے۔

معاہدے کے مطابق قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس رہے گا۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولا طے پا گیا، عہدوں کی تقسیم پر بھی اتفاق

گلگت میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت قائدِ ایوان اور اسپیکر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے وسیع تر مفاد، ترقیاتی عمل کے تسلسل اور سیاسی استحکام کے لیے دونوں جماعتوں کا اشتراک ناگزیر ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، نیئر حسین بخاری اور نامزد وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ممکنہ اتحاد سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:خواجہ آصف نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی نمائندگی دینے کی بلاول بھٹو کی تجویز کی حمایت کردی

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اقتدار کی شراکت داری کے فارمولے کے بعد امجد حسین ایڈووکیٹ کے بھاری اکثریت سے، یا بلا مقابلہ، قائدِ ایوان منتخب ہونے کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp