بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کی جدوجہد سے بھرپور زندگی کا ایک دلچسپ پہلو معروف اداکار پنکج کپور نے حالیہ انٹرویو میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق شاہ رخ خان بچپن میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) میں سموسے پہنچایا کرتے تھے۔
پنکج کپور نے ایک انٹرویو میں 1970 کی دہائی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ این ایس ڈی کے طالب علم تھے تو ایک کم عمر لڑکا ادارے میں سموسے پہنچانے آیا کرتا تھا جو بعد میں بالی ووڈ کا سپر اسٹار شاہ رخ خان بنا۔
یہ بھی پڑھیں: ’شاہ رخ خان کے ساتھ ہیروئن بننے والی تھی‘، میرا کا حیران کن انکشاف
انہوں نے کہا وہ سموسے کسی اور کے نہیں بلکہ شاہ رخ خان کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے۔ وہ اس وقت تقریباً 10 سال کے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے والد یا چچا این ایس ڈی کی کینٹین چلاتے تھے۔
پنکج کپور اور شاہ رخ خان نے بعد ازاں 1995 کی فلم ’رام جانے‘ میں ایک ساتھ کام بھی کیا۔ شاہ رخ خان کے والد میر تاج محمد خان دہلی میں ایک ریستوران کے مالک تھے اور این ایس ڈی کے میس کے انتظامات بھی سنبھالتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دنانیر مبین نے شاہ رخ خان کی فلم ’دیوداس‘ پر سخت تنقید کیوں شروع کردی؟
شاہ رخ خان کا بچپن بڑی حد تک این ایس ڈی کے ماحول میں گزرا جہاں انہیں ہندوستانی تھیٹر کے نامور فنکاروں کو قریب سے دیکھنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔
ایک انٹرویو میں شاہ رخ خان نے بتایا تھا کہ ان کا بیشتر بچپن این ایس ڈی میں گزرا اور وہ وہاں موجود اداکاروں کی ریہرسلیں اور ڈرامے باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار دیون بھوجانی کے شاہ رخ خان کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات
ان فنکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ رخ خان نے کہا میں نے مہینوں تک ان کے ڈرامے اور ریہرسلیں دیکھی ہیں۔ ان اداکاروں کو دیکھتے ہوئے ہی میرے دل میں اداکار بننے کی خواہش پیدا ہوئی۔ شاید اب میں ان سے زیادہ ملاقات نہ کر پاؤں لیکن انہوں نے ہی مجھے اداکاری سکھائی ہے۔














