عالمی سرمایہ کاری بینک کی وارننگ، جنوب مشرقی ایشیا کو غذائی بحران کا خطرہ

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیچ نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے آخر تک جنوب مشرقی ایشیا کو غذائی رسد کے شدید دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، جس کی بنیادی وجوہات مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ممکنہ طاقتور ال نینو موسمی رجحان ہیں۔

گولڈمین سیچ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایندھن سے منسلک اشیائے صرف کی قیمتوں کو متاثر کررہا ہے، جبکہ کھاد مہنگی ہونے سے زرعی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس صورتحال میں خطے کی حکومتوں کو خوراک اور ایندھن کے اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے کے مشکل فیصلے کرنا پڑسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے معدنی وسائل عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز، بلوچستان کا امن فیصلہ کن قرار

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے آخر میں اگر شدید ال نینو واقع ہوا تو تیل اور کھاد کی قیمتوں کے دباؤ کے ساتھ مل کر ایک اور غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جنوب مشرقی ایشیا میں سنگاپور اور فلپائن کو عالمی غذائی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ممالک خوراک درآمد کرنے والے ممالک ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملائیشیا اور انڈونیشیا پام آئل کی پیداوار کے باعث نسبتاً محفوظ دکھائی دیتے ہیں، تاہم پام آئل کے شعبے کو الگ رکھا جائے تو یہ دونوں ممالک بھی خالص خوراک درآمد کنندگان بن جاتے ہیں۔

تھائی لینڈ میں 90 فیصد سے زیادہ کھاد درآمد کی جاتی ہے، جس کے باعث یہ ملک عالمی کھاد اور غذائی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی کے باوجود سونا کیوں سستا ہو رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قلت بھی خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ توانائی خوراک کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

او ای سی ڈی کی رپورٹ کے مطابق اگر تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو مشرق وسطیٰ سے کھاد کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور اس کی دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات 2026 اور 2027 کی کاشت اور فصلوں کی کٹائی کے موسم پر پڑ سکتے ہیں۔

گولڈمین سیچ کے اندازوں کے مطابق تیل، کھاد اور ال نینو کے مشترکہ اثرات اگلے 6 ماہ میں جنوب مشرقی ایشیا کی غذائی مہنگائی میں اوسطاً ایک فیصد اور 12 ماہ میں 2.1 فیصد تک اضافی اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ 18 ماہ بعد یہ دباؤ تقریباً 2 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران معاہدہ ہوجانے پر عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا امکان

بینک نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار مجموعی غذائی مہنگائی کی پیش گوئی نہیں بلکہ معمول کی مہنگائی کے رجحان کے علاوہ اضافی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک کی جانب سے آئندہ ہفتے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ سونا کتنے لاکھ کا ہوگیا؟

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خاتون خودکش حملہ آور گرفتار، آئی ایس پی آر

اسحاق ڈار کا ایشیائی ترقیاتی بینک کا دورہ، ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کی درخواست

سعودی عرب کی سلامتی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، حوثی ملیشیا کی دھمکیاں ناقابل قبول قرار

ویڈیو

سکھر تا حیدرآباد ایم 6 موٹروے منصوبہ پھر تاخیر کا شکار، حکومتی دعوے برقرار

کارگل کے شہداء پر بیان، متحدہ مدارس کونسل نے مولانا فضل الرحمان سے لاتعلقی کیوں اختیار کی؟

پاکستانی کرکٹ زوال کا شکار کیوں؟ تجزیہ کار فواد مصطفیٰ سے گفتگو

کالم / تجزیہ

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں