سپریم کورٹ کا صنم عمرانی کیس میں گواہیوں کا ریکارڈ درست کرنے کا حکم

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں صنم عمرانی قتل کیس میں غلط گواہی ریکارڈ ہونے سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ریکارڈ درست کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ عدالتی حکم موصول ہونے کے بعد 2 ہفتوں کے اندر گواہیوں کی تصحیح مکمل کی جائے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے دلائل دیے اور گواہیوں کے ریکارڈ میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آیا گواہی کی ریکارڈنگ مکمل ہو چکی ہے۔

اس پر وکیل ملزمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے اس حوالے سے میمورنڈم کا حکم دیا تھا اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ گواہی کا درست ریکارڈ رکھنا ایک عدالتی ذمہ داری ہے، اور اگر عدالت خود تصحیح کر لیتی تو معاملہ اس حد تک نہ پہنچتا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: قتل کے مجرم کی درخواست بریت مسترد،عمر قید برقرار

انہوں نے کہا کہ عدالت کو آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل اختیار حاصل ہے، سماعت کے دوران عدالت نے گواہیوں کے ریکارڈ میں غلطیوں پر سخت آبزرویشنز دیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ کیا عدالت کے نوٹس میں آنے کے بعد ہم تصحیح نہیں کروا سکتے، انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کا مقصد صرف گواہی درست کرنا ہے۔

نایاب عمرانی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کی تاریخ ہی ریکارڈ میں غلط درج کی گئی ہے اور جرح کو بھی درست طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بہو کو 10 تولے سونا دینا ہوگا، سپریم کورٹ نے ساس کی درخواست خارج کردی

جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت تاریخ کی اہمیت سے آگاہ ہے، لیکن فریق صرف گواہی کی غلطی واضح کرے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ معاملہ کسی بے ایمانی سے متعلق ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل بولے؛ جج صاحب کی نیت تو صرف اللہ جانتا ہے، عدالت کو اس سمت نہ لے جایا جائے کہ غلطی کو جان بوجھ کر قرار دیا جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ، باعزت بریت پر مکمل تنخواہ اور مراعات کی ادائیگی کا حکم

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ کو کیس کی تحقیقات کا حکم دیا جائے یا صرف گواہیوں کی تصحیح پر کارروائی آگے بڑھائی جائے، تاہم واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر عدالت کا مقصد صرف ریکارڈ کی درستگی ہے۔

آخر میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کی کہ وہ تمام غلطیوں کی نشاندہی کے مطابق گواہیوں کا ریکارڈ درست کرتے ہوئے مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا علی کیس: قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم مکمل، ڈی این اے نمونے لیبارٹری ارسال، مبینہ آڈیو بھی وائرل

پرائز بانڈز رکھنے والے شہریوں کے لیے اہم خبر، کمرشل بینکوں کے لیے نئی ہدایات جاری

ویلنگٹن میں پاک نیوزی لینڈ مذاکرات، تعلیم کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ، زراعت میں بھی روابط بڑھانے پر اتفاق

فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے امریکی کارکنوں کے اسرائیل میں داخلے کے اجازت نامے منسوخ

شکیب الحسن کو شیخ حسینہ کے ساتھ ٹی وی پروگرام میں شرکت مہنگی پڑگئی، بنلہ دیشی حکومت کا بڑا فیصلہ

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر