2 برس میں 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچے جاں بحق، اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ثابت

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوامِ متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سیکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے درمیان غزہ میں کم از کم 20 ہزار 179 بچے ہلاک ہوئے، جو مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 30 فیصد بنتے ہیں۔ اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور ہتک آمیز قرار دیا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں، مشرقی یروشلم اور اسرائیل سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ میں جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے شامل تھے۔

یاد رہے کہ کمیشن نے گزشتہ سال ستمبر میں جاری اپنی ایک رپورٹ میں بھی اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی رہنماؤں نے ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔

فلسطینی بچوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا

اقوامِ متحدہ کے کمیشن کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا، حتیٰ کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طرزِ عمل اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ اسرائیلی حکام اور سیکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی آبادی کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے کے تحت کارروائیاں کیں۔

یہ بھی پڑھیے اسرائیل حماس جنگ کے دوران غزہ میں 21 ہزار بچے معذوری کا شکار ہوگئے، اقوام متحدہ کا انکشاف

کمیشن کے سربراہ سرینیواسن مرلی دھر نے رپورٹ کے ساتھ جاری بیان میں کہا کہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور ہلاک کیا۔

2 برس میں 20 ہزار سے زائد بچوں کی ہلاکت

رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20 ہزار 179 فلسطینی بچے ہلاک ہوئے، جو مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 30 فیصد ہیں۔

کمیشن نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ماضی کے مقابلے میں بچوں کی ہلاکتوں کا تناسب کہیں زیادہ رہا۔ مثال کے طور پر 2008-09 اور 2014 کی غزہ جنگوں میں بچوں کی ہلاکتیں مجموعی اموات کا تقریباً 24 فیصد تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بچوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے باوجود گنجان آبادی والے رہائشی علاقوں میں بھاری دھماکا خیز صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں اور وسیع تباہی پھیلانے والے گولہ بارود کا استعمال جاری رکھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے حملے دانستہ نوعیت کے تھے۔

کمیشن کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی بچوں کو اجتماعی طور پر اس بنیاد پر نشانہ بنایا کیونکہ وہ پوری شہری آبادی کو حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے منسلک سمجھتی تھیں۔

امدادی پابندیوں اور محاصرے کے بچوں پر اثرات

رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ حالات، جن میں وسیع پیمانے پر حملے، بار بار نقل مکانی اور خوراک، ادویات و امداد کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی بھوک شامل ہے، بچوں کی صحت اور نشوونما پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ ان حالات کے نتیجے میں قابلِ تدارک اموات اور شدید ذہنی صدمات پیدا ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے غزہ: بچے خاندان کے مرحومین کے پاس جانے کی ضد کیوں کرنے لگے؟

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ طبی مراکز اور زچہ و بچہ صحت کی سہولتوں پر حملوں نے نومولود بچوں کی بقا کو متاثر کیا، اسقاطِ حمل کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ غزہ کے تقریباً تمام بچوں کو نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

مغربی کنارے میں بھی بچوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

تحقیقاتی کمیشن نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اجتماعی گرفتاریوں اور حراست کے دوران تشدد، جنسی زیادتی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ فلسطینی بچوں، بالخصوص لڑکوں، کو حراست کے دوران منظم بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کپڑے اتروانا، تشدد کا نشانہ بنانا اور خوراک سے محروم رکھنا شامل ہے۔

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ طرزِ عمل انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور اسے تشدد اور غیر انسانی سلوک قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے شدید جسمانی و ذہنی اذیت پہنچتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp