افغانستان: طاقت، وسائل اور عہدوں پر قندھاری قیادت کی اجارہ داری، طالبان حکومت کے خلاف نئی رپورٹ نے ہلچل مچا دی

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان حکومت کے اندر قندھاری قیادت کا غلبہ اور غیر پشتون رہنماؤں کے خلاف مبینہ نسلی تطہیر کی پالیسی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق زابل کے ڈپٹی گورنر حاجی جمعہ خان فتح کی برطرفی، بدخشاں کی سونے کی کانوں پر بڑھتے ہوئے تنازع اور تاجک، ازبک اور ہزارہ کمانڈروں کے خلاف جاری کارروائیاں طالبان حکومت کے اندر گہرے ہوتے نسلی اختلافات کی عکاسی کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ طالبان خود کو قومی حکومت قرار دیتے ہیں، تاہم سیاسی اختیار، سیکیورٹی اداروں، صوبائی انتظامیہ اور معاشی وسائل کو محدود قندھاری پشتون اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز کردیا گیا ہے، جبکہ غیر پشتون رہنماؤں کے اثر و رسوخ کو گرفتاریوں، برطرفیوں، ہلاکتوں اور ادارہ جاتی اخراج کے ذریعے منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ عہدوں پر پشتونوں کا غلبہ، شمولیتی حکومت کے دعوے خلاف حقائق

رپورٹ کے مطابق نسلی بنیاد پر اخراج طالبان طرز حکمرانی کی نمایاں خصوصیت بن چکا ہے۔ 1185 اعلیٰ عہدوں میں سے قریباً 90 فیصد پشتونوں کے پاس ہیں، حالانکہ افغانستان کی مجموعی آبادی میں پشتونوں کا تناسب صرف 40 سے 45 فیصد ہے۔

تاجکوں کے پاس صرف 5.3 فیصد، ازبکوں کے پاس 2.5 فیصد جبکہ ہزارہ برادری کے پاس محض 0.6 فیصد اعلیٰ عہدے ہیں، جس سے طالبان کے شمولیتی حکومت کے دعوے محض سیاسی بیانیہ ثابت ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی 49 رکنی کابینہ میں صرف 2 تاجک، 2 ازبک، 2 بلوچ اور ایک نورستانی شامل ہے، جبکہ ہزارہ برادری کی نمائندگی قریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور خواتین کو مکمل طور پر حکومت سے باہر رکھا گیا ہے۔

غیر پشتون کمانڈروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ

رپورٹ کے مطابق زابل کے ڈپٹی گورنر حاجی جمعہ خان فتح کو اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا جب انہوں نے عوامی طور پر 10 ہزار جنگجوؤں پر اپنے اثر و رسوخ کا دعویٰ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام قندھاری قیادت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ایسے غیر پشتون کمانڈروں کو ختم کیا جائے جو مرکزی قبائلی اختیار کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ازبک کمانڈر قاری صلاح الدین ایوبی کو زابل میں سیکیورٹی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ ازبک کمانڈر مخدوم عالم ربانی کی گرفتاری کے بعد ان کے ہزاروں حامیوں نے احتجاج کیا۔

اسی طرح تاجک کمانڈر قاری وکیل کو ثالثی کی کوشش کے بعد گرفتار کیا گیا، جس سے بادغیس میں تاجک کمانڈروں میں بے چینی پھیل گئی۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے واحد ہزارہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد نے نسلی امتیاز، معاہدوں کی خلاف ورزی اور اختیارات پر اجارہ داری کے الزامات عائد کرتے ہوئے طالبان قیادت سے علیحدگی اختیار کی، بعد ازاں انہوں نے مسلح مزاحمت شروع کی، افغانستان ایران سرحد کے قریب گرفتار ہوئے اور طالبان فورسز کے ہاتھوں مارے گئے، جس کے بعد طالبان کی اعلیٰ فوجی قیادت میں ہزارہ نمائندگی مکمل طور پر ختم ہو گئی۔

تاجک اثر و رسوخ میں کمی اور ہزاروں اہلکار برطرف

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان فوج کے سربراہ قاری فصیح الدین فطرت اگرچہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں، تاہم وزارت دفاع سے ان کے وفادار سینکڑوں افسران کو ہٹا دیا گیا، جس سے طالبان کی فوجی ساخت میں تاجک اثرورسوخ کی منظم انداز میں کمی ظاہر ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے سرکاری ڈھانچے سے 4 ہزار سے زیادہ فوجی اہلکاروں کو برطرف کیا گیا، جن میں سب سے زیادہ تعداد بدخشان، کاپیسا، پروان اور تخار سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ صرف بدخشاں سے ایک ہزار سے زیادہ اہلکاروں کو نکالا گیا، جن میں سے کئی قاری فصیح الدین فطرت کے حامی تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تاجک کمانڈر عبدالحمید خراسانی کو پنجشیر سے ہٹا کر دور افتادہ ضلع میں تعینات کیا گیا، بعد ازاں انہوں نے نسلی امتیاز کا الزام لگا کر طالبان کو چھوڑ دیا۔

تاجک کمانڈر غلام حسین (حسین جندی) کو اپنے 6 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے 350 سے زیادہ جنگجوؤں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔ ممتاز تاجک کمانڈر اجمل کوہی کو بھی غیر پشتون کمانڈروں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔

اسی طرح ازبک کمانڈر قاری صلاح الدین ایوبی کو زابل سے ہٹایا گیا، مخدوم عالم ربانی کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تاجک کمانڈروں غلام حسین، اجمل کوہی اور قاری وکیل کو بھی گرفتار کیا گیا۔

عبدالحمید خراسانی کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور بعد ازاں انہوں نے نسلی امتیاز کے باعث طالبان سے علیحدگی اختیار کرلی۔

رپورٹ کے مطابق ممتاز تاجک رہنما عبدالحمید مجاہد کو طالبان کی یک نسلی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔

قدرتی وسائل اور اقتدار پر اجارہ داری کے الزامات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر گرفتاری صرف ایک کمانڈر تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے ساتھ وابستہ سینکڑوں افسران اور جنگجوؤں کو بھی برطرف، غیر مسلح یا حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر پشتون کمانڈ ڈھانچے کو منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف صلاح الدین سالار نے بھی طالبان قیادت پر نسلی جانبداری، اقتدار پر اجارہ داری، افغانستان کے قدرتی وسائل کو محدود قبائلی اشرافیہ کے ہاتھوں میں دینے اور منظم نسلی امتیاز کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ پالیسیاں افغان عوام اور طالبان حکومت کے درمیان فاصلے بڑھا رہی ہیں اور حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بدخشاں کی سونے کی کانوں پر جاری کشمکش ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان کی ایک سے 3 کھرب ڈالر مالیت کی معدنی دولت گروہی مفادات کا ذریعہ بن چکی ہے، جہاں قندھاری قیادت منافع بخش معدنی وسائل پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے اور مقامی کمانڈروں کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کررہی ہے۔

نسلی تقسیم داخلی عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار

رپورٹ کے مطابق بدخشاں، تخار، پنجشیر، بلخ، فاریاب اور زابل میں سامنے آنے والی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت بتدریج ایک ایسے قندھار مرکز سرپرستی کے نظام میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں قبائلی وفاداری، صلاحیت، نمائندگی اور قومی یکجہتی پر غالب آ چکی ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان رجیم کے ’اصول‘: حصول تعلیم مرد و عورت دونوں پر فرض پھر لاکھوں لڑکیاں علم سے محروم کیوں؟

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سب سے گہری اندرونی تقسیم اب صرف نظریاتی نہیں رہی بلکہ طالبان حکومت میں مبینہ منظم نسلی امتیاز، ریاستی اداروں پر اجارہ داری اور قدرتی وسائل کے ارتکاز نے نسلی مسئلے کو اندرونی انتشار کا بنیادی محرک بنا دیا ہے، جس سے حکومتی ہم آہنگی کمزور اور طویل المدتی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی صدر سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی، خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

چین نے دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بنا کر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا

مصنوعی ذہانت اب بھکاریوں کے پیٹ پر بھی لات مارے گی؟ ری چارجنگ کو ترستے روبوٹ نے سڑک پر ہاتھ پھیلا دیے

سنگاپور : بزرگ خاتون کے کچرے سے بھرے فلیٹ سے ہزاروں ڈالرز کے سکے اور سونا برآمد

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایران کا پاکستان کے کردار کا باضابطہ اعتراف، صدر مسعود پزشکیان کا دورہ نہایت اہم

ویڈیو

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے استقبال کیا، 21 توپوں کی سلامی، گارڈ آف آنر پیش

پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا