موسمیاتی تبدیلی کے ناخوشگوار اثرات نے پاکستان میں آم کی فصل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اِمسال دسہری اور لنگڑا آم تو دستیاب ہیں، لیکن رٹول اور چونسہ کم ملیں گے۔
ماہرین خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، جس طرح کپاس کی فصل جنوبی پنجاب میں تیزی سے کم ہوتی نظر آ رہی، اسی طرح ملتانی آموں کی ’مٹھاس‘ بھی مہنگی اور دستیابی شاید کم ہو۔
گرم سرد موسم کی اچانک تبدیلیاں اس حساس فصل کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہے، باقی ماندہ کسر آئے روز چلنے والی آندھیاں اتار رہی ہیں۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے میجر ریٹائرڈ طارق خان لطف آباد فارمز کے ڈائریکٹر اور پروگریسو مینگو گروورز گروپ کے ڈائریکٹر آپریشنز میجر طارق خان کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے آم کی پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی تھی، تاہم رواں سال صورت حال خاص طور پر تشویش ناک رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے آم پیدا کرنے والے علاقوں کا دورہ کیا جائے تو نقصان کی شدت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دسہری اور لنگڑا کی فصل نسبتاً کم متاثر ہوئی، کیونکہ یہ اقسام موسم کے آغاز ہی میں تیار ہو جاتی ہیں۔ ان کے بقول، ’یہ اقسام ابتدائی موسمی دباؤ سے پہلے ہی پک چکی تھیں، جبکہ چونسہ اور رٹول جیسی دیر سے پکنے والی اقسام سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔‘
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات
ماہرين کی رائے کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا پہلی مرتبہ سامنا رہے گا۔ جنوبی پنجاب میں واقع تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر رقبے پر مشتمل آم کے باغات رواں سال موسمی تغیرات سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ماہِ مارچ میں درجۂ حرارت کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث آم کے درختوں پر آنے والا پھول اور ابتدائی مرحلے میں بننے والا پھل بری طرح متاثر ہوا۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوے عابد حمید ساینٹفکٹ افیسر مینگو ریسرچ انسٹیوٹ ملتان نے بتایا کہ ’نا موزوں موسمی حالات کے نتیجے میں آم کی بیماری (Mango Malformation) کی شدت گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھنے میں آئی۔
بیماری کے تیز پھیلاؤ نے باغبانوں کو متاثرہ شگوفوں اور شاخوں کی بروقت کٹائی کا موقع بھی نہ دیا۔ رہی سہی کسر آم کے تیلے (Mango Hopper) کے شدید حملے نے پوری کر دی، جس کے نتیجے میں باغات کی پیداوار مزید متاثر ہوئی۔
ان حالات میں زمینداروں کے لیے آم کے باغات سے معقول آمدن حاصل کرنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ اس علاقے میں آم کی پیداوار کے درست اعداد و شمار پھل کی مکمل برداشت کے بعد ہی سامنے آئیں گے، تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سال پیداوار متوقع پیداوار کے مقابلے میں تقریباً 35 تا 40 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آم کی پیداواری ٹیکنالوجی میں بہتری لائی جائے اور ایسے زرعی طریقے اختیار کیے جائیں، جن سے پودے موسمی تغیرات اور ماحولیاتی دباؤ کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ اس سے نہ صرف آم کی پیداوار میں استحکام آئے گا، بلکہ معاشی مشکلات سے دوچار کسانوں کو بھی اقتصادی استحکام حاصل ہو سکے گا۔
ڈاکٹر حافظ آصف رحمان پرنسپل ساینٹسٹ نے بتایا کہ ’مستقبل میں موسمی تغیرات کے منفی اثرات کو کم کرنے اور آم کی پیداوار میں استحکام لانے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔
باغات کو خوابیدگی (Dormancy)کے دورانیے کے بعد مناسب زرعی انتظامات کے ذریعے قبل از وقت بار آوری کی طرف راغب کیا جائے، تاکہ پھول اور پھل کی نشوونما موزوں موسمی حالات میں ہو سکے۔
آم کے باغات میں کیڑوں اور نقصان دہ بیماریوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور ان کا بروقت اور مؤثر تدارک یقینی بنایا جائے، تاکہ پیداوار کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پودوں کی غذائی ضروریات متوازن کھادوں اور اجزائے صغیرہ (Micronutrients) کی فراہمی کے ذریعے پوری کی جائیں، تاکہ پودے موسمی تغیرات، درجہ حرارت کے اتار چڑھاؤ اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل ہو سکیں۔
نئے باغات لگاتے وقت ایسی اقسام کا انتخاب کیا جائے جو موسمیاتی تبدیلیوں، بیماریوں اور کیڑوں کے مقابلے میں زیادہ قوتِ مدافعت اور برداشت کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
ان اقدامات پر عمل درآمد سے نہ صرف آم کی پیداوار اور معیار میں بہتری آئے گی، بلکہ زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے گا۔
ایک مثال دیتے ھوئے پنجاب کے کاشتکار نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے علاقے کوٹ ادو میں تقریباً 100 ایکڑ پر سمر بہشت، وائٹ چونسہ، انور رٹول اور سندھڑی سمیت مختلف اقسام کے آم کاشت ھوتے تھے لیکن اس مرتبہ علاقے میں تقریباً 40 فیصد فصل کو نقصان پہنچا ہے۔
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آم کی خوشبو فضا میں گھل جاتی ہے۔ پاکستان میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ نہ صرف ذائقے، بلکہ اپنی ثقافتی اہمیت کے باعث بھی خاص مقام رکھتا ہے۔
اس مرتبہ ماہرين کی رائے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے پہلی مرتبہ اثرات کا سامنا رہا ہے۔ فروری کے اخری دنوں میں پھل پر اثرات آنا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن اس مرتبہ مارچ کے اخر تک موسم بترریج سرد رہنے کی وجہ سے اور بیماری کے سبب آم کی پیداوار میں امید سے زیادہ کمی رہی۔
سندھ کے سندھڑی، چونسہ، انور رٹول، لنگڑا اور دیگر اقسام کے آم ملک بھر کی منڈیوں کی رونق بڑھا دیتے ہیں۔ اس سال بھی آم کے باغات میں فصل کی تیاری کے ساتھ کاشتکار اچھی پیداوار کے لیے پُرامید تھے، لیکن ماہرین کے مطابق زیادہ پیداوار کی امید کم ہے۔
عاطف اقبال سئینر سائنسٹیسٹ کا کہنا ہیکہ موسمی تبدیلیوں سے پھل کے زائقے پر تو اتنا اثر نہں پڑے گا، لیکن اس کی جسامت (وزن) پر اثر پڑ سکتا ہے۔
شہری علاقوں میں لوگ آم کی مختلف اقسام خریدنے اور دوستوں و رشتہ داروں کو تحفے کے طور پر بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آم نہ صرف ذائقے دار ہیں بلکہ وٹامن اے، سی اور فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
گرمی کی شدت کے باوجود آم کی مٹھاس لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال گرمیوں کا موسم آم کی سوغات کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














