روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جہاں یوکرین نے روس کے اندر اہم توانائی اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا مقصد روسی فوجی صلاحیتوں اور لاجسٹک نظام کو متاثر کرنا تھا۔
مزید پڑھیں:روس اور یوکرین کے درمیان ایسٹر کے موقع پر عارضی جنگ بندی نافذالعمل ہوگئی
یوکرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ڈرون حملوں میں ایک بڑے گیس پراسیسنگ پلانٹ اور متعدد سیٹلائٹ مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد بعض علاقوں میں عارضی طور پر آپریشنل سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کئی یوکرینی ڈرونز کو تباہ کر دیا، تاہم بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ ماسکو نے حملوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق توانائی اور مواصلاتی انفراسٹرکچر پر حملے جنگ کی نئی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں، جس کا مقصد مخالف فریق کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو 2 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ تنازع ابھی کسی فوری حل کی طرف بڑھتا نظر نہیں آ رہا۔














