شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کا منصوبہ جاری ہے جبکہ مستقبل میں 10 ہزار ٹن وزنی جدید جنگی بحری جہاز بھی تیار کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’جوہری تخفیف کا معاملہ ختم ہو چکا ہے‘،شمالی کوریا کا سخت مؤقف
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے شمالی شہر نامپو میں جنگی بحری جہاز چوئے ہیون کی باضابطہ شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔
یہ بحری جہاز ان دو 5 ہزار ٹن وزنی جنگی جہازوں میں شامل ہے جنہیں گزشتہ سال شمالی کوریا نے لانچ کیا تھا۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کا پروگرام منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمتِ عملی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری قوت مختلف حالات میں مؤثر انداز میں استعمال کی جا سکے۔
جدید ہتھیاروں سے لیس جنگی جہاز
شمالی کوریا اس سے قبل دعویٰ کر چکا ہے کہ چوئے ہیون جنگی جہاز کو انتہائی طاقتور ہتھیاروں سے لیس کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے پر 30 سال قید کی سزا
سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے اپریل میں اس جہاز کا معائنہ بھی کیا تھا جس کے دوران بحری جہاز سے میزائل تجربات بھی کیے گئے تھے۔
10 ہزار ٹن وزنی جنگی جہازوں کی تیاری
کم جونگ اُن نے تقریب کے دوران بتایا کہ کانگ کون نامی ایک اور ڈسٹرائر جلد بحریہ میں شامل کر لیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد مرحلہ وار 10 ہزار ٹن وزنی اسٹریٹجک جنگی جہاز تیار اور لانچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا سالانہ ہدف کم از کم دو جدید جنگی سطحی جہاز تیار کرنا ہے جن میں ایک 10 ہزار ٹن وزنی بحری جہاز بھی شامل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اس حجم کے جہاز امریکی بحریہ کے آرلی برک کلاس ڈسٹرائرز اور جنوبی کوریا کے سیجونگ دی گریٹ کلاس جنگی جہازوں کے برابر شمار کیے جاتے ہیں۔
ان کی لمبائی عموماً 150 سے 170 میٹر تک ہوتی ہے، جو تقریباً ڈیڑھ فٹبال گراؤنڈ کے برابر بنتی ہے۔
خطے کو جوہری جنگ کے دہانے پر قرار دیا
ورکرز پارٹی آف کوریا کے حالیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنوبی کوریا اور امریکا کی فوجی جدید کاری اور مشترکہ دفاعی سرگرمیاں خطے کو جوہری جنگ کے دہانے تک لے جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: شی جن پنگ کا شمالی کوریا میں پرتپاک استقبال، ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کا اعلان
کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ ان حالات میں شمالی کوریا کے لیے اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔














