انسپکٹر جنرل (آئی جی) آزاد جموں و کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے سڑکوں کی بندش سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں بیشتر شاہراہیں معمول کے مطابق کھلی ہیں اور رپورٹ میں زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو عام معافی دینے کا امکان مسترد کردیا
مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی آزاد کشمیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ بی بی سی جیسے بین الاقوامی ادارے نے زمینی صورتحال کی تصدیق کیے بغیر خبر نشر کی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں تمام اہم شاہراہیں کھلی ہیں اور صرف راولاکوٹ کے چند مقامات پر محدود نوعیت کی رکاوٹیں موجود ہیں۔
لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ موجودہ دور ہائبرڈ وارفیئر کا دور ہے جہاں حقائق کو مسخ کر کے مختلف بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں اس لیے عوام کو چاہیے کہ کسی بھی خبر پر ردعمل دینے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض شرپسند عناصر مسلسل آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کالعدم تنظیم سے وابستہ عناصر سڑکیں بند کرنے، خوراک لے جانے والی گاڑیوں کو زبردستی روکنے، ان کی لوٹ مار کرنے اور ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرائی کی منصوبہ بندی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی لیک آڈیو کال سامنے آگئی
آئی جی پولیس نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
عثمان مشتاق کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی
دوسری جانب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے سرگرم رکن اور خواجہ مہران کے قریبی ساتھی عثمان مشتاق نے تنظیم سے مکمل لاتعلقی اور اس کی سرگرمیوں و نظریات سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں عثمان مشتاق نے کہا کہ وہ خواجہ مہران کے ساتھ راولاکوٹ دھرنے میں شریک رہے تاہم وہاں کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لینے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ تنظیم اپنے ابتدائی مقاصد اور عوامی حقوق کے ایجنڈے سے ہٹ چکی ہے۔
مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے لگی، شوکت نواز میر بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں عوامی ایکشن کمیٹی آٹے، بجلی اور ہیلتھ کارڈ جیسے عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اس کی حمایت کی لیکن بعد میں یہ واضح ہو گیا کہ تنظیم کی موجودہ سرگرمیاں عوامی حقوق کے بجائے کسی اور ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں عوامی ایکشن کمیٹی آٹے، بجلی اور ہیلتھ کارڈ جیسے عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اس کی حمایت کی لیکن بعد میں یہ واضح ہو گیا کہ تنظیم کی موجودہ سرگرمیاں عوامی حقوق کے بجائے کسی اور ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر اسمبلی: زخمی اے ایس آئی کو شہید کرکے لاش کی بے حرمتی پر مذمتی قرار داد منظور، اعزاز دینے کا مطالبہ
عثمان مشتاق نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے یا اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں، حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایسے عناصر سے دور رہیں جو انہیں گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔













